ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 115

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۵ جلد چهارم بہت سے نشانات ان کی ایمانی قوت کو بڑھانے کے واسطے خدا تعالیٰ نے ظاہر کیے اور اس طرح پر یہ جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے کوئی ایک بات ہوتی تو شک کرنے کا مقام ہو سکتا تھا مگر یہاں تو خدا تعالیٰ نے ان کو نشان پر نشان دکھائے اور ہر طرح سے اطمینان اور تسلی کی راہیں دکھا ئیں لیکن بہت ہی کم سمجھنے والے نکلے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ کیوں یہ لوگ جو میرا انکار کرتے ہیں ان ضرورتوں پر نظر نہیں کرتے جو اس وقت ایک مصلح کے وجود کی داعی ہیں؟ وہ دیکھیں کہ روئے زمین پر مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟ کیا کسی پہلو مسلمانوں کی حالت سے بھی کوئی قابل اطمینان صورت دکھائی دیتی ہے شان و شوکت کی حالت تو سلطنت کی صورت میں نظر آسکتی ہے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت اس وقت روم کی سلطنت ہے لیکن اس کی حالت کو دیکھ لو وہ بتیس دانتوں میں زبان ہو رہی ہے اور آئے دن کسی نہ کسی خرخشہ اور مخمصہ میں مبتلا رہتی ہے۔ علمی حالت کے لحاظ سے سب رورہے ہیں کہ مسلمان پیچھے رہے ہوئے ہیں اور نت نئی مجلسیں اور کمیٹیاں قائم ہوتی ہیں کہ مسلمانوں کی علمی حالت کی اصلاح کی جاوے۔ دُنیوی لحاظ سے تو یہ حالت اور دینی پہلو کے لحاظ سے تو بہت ہی گری ہوئی حالت ہے کوئی بدعت اور فعل شنیع نہیں ہے جس کے مرتکب مسلمان نہ پائے جاتے ہوں ۔ اعمالِ صالحہ کی بجائے چند رسوم باقی رہ گئے ہیں۔ جیل خانوں کو جا کر دیکھو تو زیادہ مجرم مسلمان دکھائی دیں گے کس کس بات کا ذکر کیا جاوے مسلمانوں کی حالت اس وقت بہت ہی گری ہوئی ہے اور ان پر آفات پر آفات نازل ہو رہے ہیں ۔ مگر کیا مسلمان ابھی چاہتے ہیں کہ وہ اور پیسے جاویں۔ اس سے بڑھ کر ان کی ذلیل حالت کیا ہو گی کہ وہ پاک دین جو بے نظیر دولت ان کے پاس تھی اور ایمان جیسی نعمت وہ کھو بیٹھے ہیں۔ اور مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے عیسائی ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے اور اسلام کا مضحکہ اُڑاتے ہیں اور یا اگر کھلے طور پر عیسائی نہیں ہوئے تو عیسائیوں لے اس مقام تک حضرت اقدس ابھی پہنچے تھے کہ خان عجب خان صاحب جو رقت قلب کے ساتھ چشم پر آب تھے اپنے پر جوش لہجہ میں بول اُٹھے کہ وجو د جناب خود شہادت است (ایڈیٹر )