ملفوظات (جلد 4) — Page 105
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۵ جلد چهارم بجائے سننے کا کام لے۔ ان اعضا اور قویٰ کے افعال اور خواص محدود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے افعال اور صفات محدود نہیں ہیں اور وہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری: (۱۲) ہے۔ غرض یہ توحید تب ہی پوری ہوگی جب اللہ تعالیٰ کو ہر طرح سے وحدہ لا شریک یقین کیا جاوے اور انسان اپنی حقیقت کو ہالکتہ الذات اور باطلة الحقیقت سمجھ لے۔ کہ نہ میں اور نہ میری تدابیر اور اسباب کچھ چیز ہیں ۔ اس سے ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہم استعمال اسباب رعایت اسباب بھی ضروری ہے سے منع کرتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے ہم اسباب کے استعمال سے منع نہیں کرتے بلکہ رعایت اسباب بھی ضروری ہے کیونکہ انسانی بناوٹ بجائے خود اس رعایت کو چاہتی ہے لیکن اسباب کا استعمال اس حد تک نہ کرے کہ ان کو خدا کا شریک بناوے بلکہ ان کو بطور خادم سمجھے جیسے کسی کو بٹالہ جانا ہو تو وہ یکہ یا ٹوکرا یہ کرتا ہے تو اصل مقصد اس کا بٹالہ پہنچنا ہے نہ وہ ٹو یا یکہ ۔ پس اسباب پر گلی بھروسا نہ کرے یہ سمجھے کہ ان اسباب میں اللہ تعالیٰ نے کچھ تاثیریں رکھی ہیں اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو وہ تاثیریں بے کار ہو جائیں اور کوئی نفع نہ دیں۔ اسی کے موافق ہے جو مجھے الہام ہوا ہے رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ۔ بت پرستوں کا شرک تو موٹا ہوتا ہے کہ پتھر بنا کر پوجا کرتے ہیں اسباب پرستی شرک ہے یا کسی درخت یا اور نشے کی پرستش کرتے ہیں اس کو تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ باطل ہے یہ زمانہ اس قسم کی بت پرستی کا نہیں ہے بلکہ اسباب پرستی کا زمانہ ہے اگر کوئی بالکل ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہے اور شست ہو جاوے تو اس پر تو خدا کی لعنت ہوتی ہے لیکن جو اسباب کو خدا بنا لیتا ہے وہ بھی ہلاک ہو جاتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس وقت یورپ دو شرکوں میں مبتلا ہے ایک تو مردہ کی پرستش کر رہا ہے اور جو اس سے بچے ہیں اور مذہب سے آزاد ہو گئے ہیں وہ اسباب کی پرستش کر رہے ہیں اور اس طرح پر یہ اسباب پرستی مرض دق کی طرح لگی ہوئی ہے اور یورپ کی تقلید نے اس ملک کے نوجوانوں اور نو تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی ایسی مرض میں مبتلا کر دیا ہے وہ اب سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسلام سے باہر جا رہے ہیں اور خدا پرستی کو چھوڑ کر اسباب پرستی کے دق