ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 99

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۹ جلد چهارم اپنی نادانی اور جہالت سے اعتراض کے رنگ میں پیش کرتا ہے حالانکہ اس میں ایک عظیم الشان فلسفہ رکھا ہوا ہے۔ اسی لئے وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصدع (الطارق: ۱۲ تا ۱۳) کہہ کر فرما یا إِنَّهُ لَقَولُ فَصِّلُ ( الطارق: ۱۴ ) ۔ إِنَّهُ لَقَولُ فَصل جو کلام الہی کے لئے بولا گیا ہے یہ ایک نظری امر تھا۔ اس کے ثبوت کے لئے بدیہی امر کو پیش کیا ہے ۔ جیسے امساک باراں کے وقت ضرورت ہوتی ہے مینہ کی اسی طرح پر اس وقت لوگ روحانی پانی کو چاہتے ہیں۔ زمین بالکل مر چکی ہے۔ یہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) کا ہو گیا ہے جنگل اور سمندر بگڑ چکے ہیں۔ جنگل سے مراد مشرک لوگ اور بحر سے اہل کتاب ہیں ۔ جاہل و عالم بھی مراد ہو سکتے ہیں ۔ غرض انسانوں کے ہر طبقہ میں فساد واقع ہو گیا ہے جس پہلو اور جس رنگ میں دیکھو دنیا کی حالت بدل گئی ہے۔ روحانیت باقی نہیں رہی اور نہ اس کی میں باقی تاثیریں نظر آتی ہیں ۔ اخلاقی اور عملی کمزوریوں میں ہر چھوٹا بڑا مبتلا ہے۔ خدا پرستی اور خدا شناسی کا ۔ ہر خداشنا نام ونشان مٹا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ آسمانی پانی اور نور نبوت کا نزول ہو اور مستعد دلوں کو روشنی بخشے ۔ خدا تعالیٰ کا شکر کرو اس نے اپنے فضل سے اس وقت اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی بنا پر دلائل عقلیہ اور نشانات بینہ سے اس سلسلہ کی صداقت کو ظاہر کر رہا ہے۔ تعلیم کو اگر انسان دیکھے تو صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ سچی تعلیم یہی تعلیم ہے جس کو عقلمند قبول کریں گے۔ اسلامی تعلیم ہی ایک ایسی تعلیم ہے کہ جس کو عدل کہتے ہیں۔ اس تعلیم میں ایک کشش موجود ہے۔ سورۃ فاتحہ میں جس خدا کو پیش اللہ تعالیٰ (اسلام اور عیسائی تعلیمات کی رو سے) کیا ہے دنیا کا کوئی مذہب اسے پیش نہیں کرتا۔ عیسائیوں نے جو خدا دکھایا ہے اس کے مقابلہ میں ہم کہتے ہیں لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ (الاخلاص: ۴) ہے۔ ہاں اگر مریم کے پیٹ میں واقعی خدا آ گیا تھا تو چاہیے تھا کہ وہ پیٹ ہی میں مریم کو وعظ کرتے اور ایک لمبا لیکچر دیتے جس کو دوسرے لوگ بھی سن لیتے تو اس خارق عادت لیکچر کو