ملفوظات (جلد 4) — Page 96
ملفوظات حضرت مسیح موعود १५ جلد چهارم یا یا کسی دوسرے کی شرارت اور غلط بیانی کی وجہ سے دھوکا میں پڑ جاتا ہے۔اس لئے خود خالی الذہن ہو کر تحقیق کرنی چاہیے۔ مثلاً میں نے دیکھا ہے کہ آریہ اور عیسائی اعتراض کر دیتے ہیں کہ قرآنی قسموں کا فلسفہ قرآن شریف میں قسمیں کیوں کھائی ہیں؟ اور پھراپنی طرف سے حاشیہ چڑھا کر اس کو عجیب عجیب اعتراضوں کے پیرا یہ میں پیش کرتے ہیں ۔ حالانکہ اگر ذرا بھی نیک نیتی اور فہم سے کام لیا جاوے تو ایسا اعتراض بیہودہ اور بے سود معلوم دیتا ہے کیونکہ قسموں کے متعلق دیکھنا یہ ضروری ہوتا ہے کہ قسم کھانے کا اصل مفہوم اور مقصد کیا ہوتا ہے؟ جب اس کی فلاسفی پر غور کر لیا جاوے تو پھر یہ خود بخو دسوال حل ہو جاتا ہے اور زیادہ رنج اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ قسم کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ قسم بطور قائم مقام گواہ کے کہ ہوتی ہے اور یہ مسلم بات ہے کہ عدالت جب گواہ پر فیصلہ کرتی ہے تو کیا اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ پر فیصلہ کرتی ہے یا قسم کھانے والے کی قسم کو ایک شاہد صادق تصور کرتی ہے؟ یہ روزمرہ کی بات ہے۔ جہالت اور تعصب سے اعتراض کرنا اور بات ہے لیکن حقیقت کو مد نظر رکھ کر کوئی بات کہنا اور ۔ اب جب کہ یہ عام طریق ہے کہ قسم بطور گواہ کے ہوتی ہے۔ پھر یہ کیسی سیدھی بات ہے کہ اسی اصول پر قرآن شریف کی قسموں کو دیکھ لیا جاوے کہ وہاں اس سے کیا مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں کوئی قسم کھائی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لئے بدیہی کو گواہ ٹھہراتا ہے۔ جیسے فرمایا وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْع - إِنَّهُ لَقَولُ فصل ( الطارق: ۱۲ تا ۱۴) اب یہ بھی ایک قسم کا محل ہے۔ نادان قرآن شریف کے حقائق سے ناواقف اور نابلد ا پنی جہالت سے یہ اعتراض کر دیتا ہے کہ دیکھو زمین کی یا آسمان کی قسم کھائی ہے لیکن اس کو نہیں معلوم کہ اس قسم کے نیچے کیسے کیسے معارف موجود ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وحی الہی کے دلائل اور قرآن شریف کی حقانیت کی شہادت پیش کرنی