ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 50

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰ جلد سوم اللہ تعالیٰ اس مرض سے محفوظ رکھے اور اپنی پناہ میں لے۔ طاعون کوئی معمولی مرض نہیں ہے اور نہ اس کے دورہ کا کوئی خاص نظام ہے بلکہ بعض اوقات یہ سالہائے دراز تک اپنا سلسلہ جاری رکھتی ہے اور اس وقت تو طاعون خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص کام کے لیے مامور کی گئی ہے۔ وہ لوگ غلطی اور گناہ کرتے ہیں جو طاعون کو بُرا کہتے ہیں۔ یہ خدا کا فرشتہ ہے جو اس کے بندے کی سچائی پر ایک گواہی قائم کرنے کے لیے آیا ہے۔ پس ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ خدا اس طاعون کی شدت اور اس کے متعلق پیشگوئیاں سے محفوظ رکھے ۔ بظاہر طاعون سے ہر ایک گاؤں کا دورہ کرے گی یہ نہ سمجھو کہ کوئی باقی رہ جاوے گا۔ وہی بچ سکتا ہے جو تو بہ اور استغفار میں مصروف ہے۔ اس لیے اس وقت ضروری ہے کہ اپنی جان اور اپنی بیوی بچوں پر رحم کرو۔ یہ خدا تعالیٰ کے غضب کے دن ہیں ۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی بدکاریاں اور شوخیاں اس حد تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں کہ جب وہ خدا کے غضب سے ہلاک ہوتا ہے تو اس لعنت اور غضب کا اثر اُس کی اولاد تک بھی پہنچتا ہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے وَلَا يَخَافُ عُقْبُهَا (الشَّمس : ١٦) ۔ عقبها سے اولاد اور پسماندگان مراد ہیں۔ جہاں جہاں طاعون پھیلا ہے۔ لوگ کتوں کی طرح مرتے ہیں۔ بعض مردہ چوہوں کی طرح بد بودار ہو جاتے ہیں ۔ کوئی اُن کو اُٹھا بھی نہیں سکتا اور ان ہیں۔ کے جنازوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر قبروں میں ڈالتے ہیں۔ بہت سے خطوط طاعون زدہ علاقوں اور گاؤں سے آئے ہیں ۔ جن میں لکھا ہوا تھا کہ کوئی جنازہ نہیں پڑھتا۔ مُرداروں کی طرح مردوں کو گڑھے کھود کر ڈال دیا جاتا ہے مگر تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی کہ خدا تعالیٰ کا یہ غضب کیوں آیا؟ میں یقیناً کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو لوگ آتے ہیں جب اُن کی باتوں کو لوگ نہیں مانتے اور شرارت اور شوخی سے اُن کا انکار کر کے ایذا رسانی کی حد تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کا الحکم جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۲ء صفحه ۶،۵