ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 542 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 542

ملفوظات حضرت مسیح موعود نبوت جلد سوم اللہ تعالیٰ ہر نبی کی تکمیل جدا جدا پیرایوں نبی کا وجود دو چیزوں سے مرکب ہوتا ہے نبوت اور ولایت انبیاء کی بعثت کی غرض مشترک انبیاء خدا تک پہنچانے والے سلسلہ کی راہ میں کرتا ہے ۱۴۰ نبیوں کے کلام میں سختی اور تلخی ۱۰۱ انبیاء کا استغفار عصمت انبیاء کے چراغ ہیں ۴۷۵ انبیاء سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے A ۱۹ ۴۲۳ ، ۱۹۵ ۲۸۹،۲۷۸ ۳۵۰ پاکیزگی کی وراثت بجز انبیاء کے نہیں آتی لد ٥٧ نبی میں سلب امراض کی قوت کسبی نہیں وہبی انبیاء آئینہ کا حکم رکھتے ہیں ۲۲۹ ہوتی ہے نبی دو چیزیں لے کر آتے ہیں کتاب اور سنت ۳۹۸ کوئی پیغمبر طاعون سے ہلاک نہیں ہوا ضرورت انبیاء کا ثبوت ۲۳۸ انبیاء پر ایمان لانے والے تین گروہ ابتدا میں ہمیشہ کز رع آتے ہیں اور حقیر نبی کا ہر سفر اپنے اندر حکمت رکھتا ہے ۱۶۳ ۳۱۵ ۲۰ ۳۵۶ اور ذلیل نظر آتے ہیں ۸۷ بنی اسرائیل کے خاندان سے نبوت کا خاتمہ ۴۵۵ انبیاء تلامیذ الرحمن ہوتے ہیں ان کی ترقی مقام خاتم النبیین کی حقیقت تدریجی ہوتی ہے نجومی اور نبی کی پیشگوئیوں میں فرق انبیاء علیہم السلام کا خدا تعالیٰ سے تعلق ۱۲۱ ۲۹۶ ۱۳ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب انبیا مختص القوم اور مختص الزمان - تھے کل انبیاء علیہم السلام طبعاً ہر قسم کی تعریف اور تمام انبیاء عمل تھے نبی کریم کی خاص خاص صفات میں ۲۳ ۷۰ مدح و ثنا سے کراہت کرتے تھے ۸۴ انبیاء اللہ تعالیٰ کے غناء ذاتی پر ایمان رکھتے ہیں ۶۷ ختم نبوت غیر امتی نبی کے آنے میں مانع ہے ۲۵۵ خدا کے رسول کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں وہ نبوت منقطع ہوگئی ہے جو بلا توسل اور سلسلہ بڑھتے پیغمبر کے لئے علم کی حدود ١١،١٠ ۳۳۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر آتی ہے ۳۹۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مستقل انبیاء نے عالم الغیب ہونے کا کبھی دعوی نہیں کیا ۳۱۶ اور بلا استفاضہ آنحضرت ماموریت کا دعویٰ ضروری نہیں کہ پیغمبروں پر بھی تفصیلی حالات کرنے والا مردو دو مخذول ہے ظاہر کئے جائیں انبیاء کی وفات کے بعد ان کی امت کے حالات سے لا علمی ۲۳۴ ۳۴۵ نجات نجات اور مکتی نجات کے متعلق اللہ تعالیٰ کا قانون ۸۵ ۲۱۶ ۳۸۰