ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 466

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۶ جلد سوم بہت ہی سعید روحیں عرب میں ہوں گی جو اسے دیکھ کر عاشق زار ہو جاویں گی ۔ حکیم صاحب بیان گی۔ کرتے تھے کہ میں حیران ہو ہو جاتا تھا اور جی چاہتا کہ سجدہ کروں پھر حیران ہوتا کہ کون سے لفظ پر سجدہ کروں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمارا مطلب یہی ہے کہ چونکہ ہر وقت موقع نہیں ہوتا اکثر کام اردو زبان میں ہوتا ہے اس لئے دو ہزار چھپوا لیا جاوے جہاں کہیں عرب میں بھیجنے کی ضرورت ہوئی بھیج دیا۔ مخالفت میں بھی ہمارے لئے برکت ہوتی ہے اور جو لکھتا ہے ہماری خیر کے لئے لکھتا ہے ورنہ پھر تحریک کیسے ہو۔ لوگوں کے عیسائی ہونے کے ذکر پر فرمایا کہ عیسائیت اختیار کرنے والے مسلمان اصل بات سچی یہی ہے کہ بجز ان لوگوں کے جن کی فطرت میں خدا نے سعادت دی ہے اور وہ احقاق حق چاہتے ہیں باقی گل اکل و شرب کے واسطے عیسائی ہوتے ہیں اور اسلام سے ان کو کوئی مناسبت نہیں رہتی ۔ اسلام میں تقوی ، طہارت، پاکیزگی ، صوم و صلوۃ وغیرہ سب بجالانا پڑتا ہے وہ لوگ اسے بجالا نہیں سکتے ۔ حقیقت اسلام کی طرف نظر کی جاوے تو جن کی فطرت میں عیاشی بھری ہوئی ہے ان کو لے کر ( یعنی مسلمان کر کے ) ہم کیا کریں۔ جہاں کہیں ان کی نفسانی اغراض پوری ہوں گی وہ وہاں ہی رہیں گے ان کو مذہب اسلام سے کیا کام ۔ جب ان کے اغراض میں فرق آیا پھر وہاں سے چلے جاویں گے۔ ایسے لوگ بہت ہیں مگر ان کے لانے سے کیا فائدہ؟ اس شخص کو لانا چاہیے جسے اوّل پہچانا جاوے کہ اس کے اندر اسلام کو قبول کرنے کا مادہ ہے تزکیہ نفس اور تقویٰ اختیار کر سکے گا اور ذرا سے ابتلا سے گھبرا نہ جاوے گا تو ایسا شخص اگر مشرف باسلام ہو تو اس سے فائدہ ہوا کرتا ہے۔ میری طبیعت بیزار ہوتی ہے خواہ کوئی ہندو میرے پاس آوے مگر دنیا کے گند سے بھرا ہوا ہو کہ جب ذکر کرتا ہے تو دنیا کا اور جو خیال ہے دنیا کا۔ تو ایسے کو مسلمان کر کے کیا کیا جاوے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ایسا ہی تھا۔ جو لوگ متقی نہ رہے آخر وہ کافر ہو گئے ۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ تقویٰ میں