ملفوظات (جلد 3) — Page 428
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۸ جلد سوم کہ جو آگ میں گرنا چاہتے ہیں تو ان کو ( خدا ) آگ سے بچاتا ہے اور جو خود آگ سے بچنا چاہتے ہیں وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں۔ یہ سلم ہے اور یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس سے انکار نہ کرے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عصمت کی فکر میں خود لگتے تو والله يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۶۸ ) کی آیت نہ نازل ہوتی ۔ حفاظت الہی کا یہی سر ہے۔ او پر کی تقریر فارسی زبان میں تھی میں نے افادہ عام کی خاطر اردو میں ترجمہ کر کے لکھی۔ ایڈیٹر ) لو ۲ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز سه شنبه عصر کے وقت جب حضور کی خدمت میں یہ بات با یہ بات پیش کی گئی کہ مولوی ثناء اللہ کی حیلہ جوئی شاء اللہ لکھا ہے کہ میری موت کی پینگوئی کرو تو حضور نے فرمایا کہ یہ حیلہ ہے ورنہ وہ جانتا ہے کہ ہم حکومت سے معاہدہ کر چکے ہیں کہ موت کی پیشگوئی نہ کریں گے اس لئے دیدہ دانستہ لکھتا ہے۔ ورنہ ہم نے جو لکھ دیا ہے وہ خود حسب شرائط شائع کر دے کہ جو کا ذب ہے وہ پیشتر مر جاوے۔ اسے اس طرح لکھنے سے کیوں خوف آتا ہے اس طرح نہ لکھنا اور ہمیں لکھنا کہ پیشگوئی کریں یہ صرف حیلہ جوئی ہے۔ ہے۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز چهارشنبه (بوقت مغرب ) استغفار کی حقیقت ماسٹر عبدالرحمان صاحب نو مسلم تھرڈ ماسٹر مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان عیسائی نو پرچہ اپنی فینی سے ایک مضمون سناتے رہے۔ جو کہ کسی نے انگریزی رسالہ ریویو آف آف ) ریلیجنز میں سے لفظ ذنب کے معانی پر مخالفانہ رنگ میں لکھا ہے کہ لفظ ذنب ایک ایسا لفظ البدر جلد ا نمبر۷ مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۵۱ تا ۵۳ البدر جلد نمبرے مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۵۳