ملفوظات (جلد 3) — Page 426
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۶ جلد سوم میں انسان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ حسب استطاعت خدا کے فرائض بجالا وے۔روزہ کے بارے ا خدا فرماتا ہے وَ اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ (البقرة : ۱۸۵) یعنی اگر تم روزہ رکھ بھی لیا کرو تو تمہارے واسطے بڑی خیر ہے۔ ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق فدیہ کی غرض کے واسطے ہے۔ تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔ خدا ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا ہی سے طلب کرنی چاہیے ۔ خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جاوے اور یہ خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔ پس میرے نزدیک خوب ہے کہ دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ۔ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ۔ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا۔ اگر خدا چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس روزہ کی فرضیت نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں تو مجھے اور محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جاوے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے جو شخص کہ روزے سے محروم رہتا۔ رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات وجود سے ا۔ کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ ہرگز اسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔ یہ ایک بار یک امر ہے کہ اگر کسی شخص پر ( اپنے نفس کی کسل کی وجہ سے روزہ گراں ہے اور وہ