ملفوظات (جلد 3) — Page 401
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ۱۰ جلد سوم ہم تو قائل ایک شاعرانہ مذاق پر مضمون لکھنا شروع کر دیا۔ ہم دواؤں سے کب انکار کرتے ہیں ہم تو ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شے میں بعض فوائد رکھے ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ہمیں قبل از وقت سوجھا دیا ہے کہ یہ اس کا حقیقی علاج ہے اور یہ امر اس نے ہمیں بطور نشان کے دیا ہے تو اب ہم نشان کو کیسے مشتبہ کریں۔ جب اللہ تعالیٰ کوئی نشان دیوے تو اس کی بے قدری کرنا صرف معصیت ہی نہیں بلکہ کفر تک نوبت پہنچا دیتا ہے۔ هر مرتبه از وجود اثری دارد گر حفظ مراتب نه کنی زندیقی حفظ مراتب کا لحاظ ان لوگوں کے وہم گمان میں کبھی نہیں آتا یا افراط ہے یا تفریط ۔ اسی لیے سمجھ اسی کا نام ہے خیر اب اس کے مقابلہ میں بھی لکھنے کا عمدہ موقع مل گیا ہے بہتر ہے کہ ایک اشتہار میں سے کے میں کا ہے بہتر ہے کہ مختصراً اپنے دعاوی اور دلائل لکھ دیئے جاویں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اب بہانے ڈھونڈتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب تبلیغ کا کوئی عمدہ ذریعہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ اسی طرح دشمنوں کے ہاتھوں سے تبلیغ کراتا تھا کوئی شاعر آتا تو شعر کہہ جاتا لوگ برے برے پیراؤں میں آپ کا ذکر کرتے مگر سعید روحیں انہی کے الفاظ سے آپ کی طرف کھچی چلی آتیں۔ یہ ہمیشہ سے سنت اللہ ہے۔ بٹالہ میں طاعون کا ذکر سن کر فرمایا کہ سعادت کے نشان یہ سر زمین بہت گندی ہے خوف ہے کہیں تباہ نہ ہو جاوے۔ اللہ کا حم ہے اس شخص پر جو امن کی حالت میں اسی طرح ڈرتا ہے جس طرح کسی پر مصیبت وارد ہوتی ہو تو وہ ڈرے جو امن کے وقت خدا کو نہیں بھلاتا خدا اسے مصیبت کے وقت میں نہیں بھلاتا اور جو امن کے زمانے کو عیش میں بسر کرتا ہے اور مصیبت کے وقت دعائیں کرنے لگتا ہے تو اس کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں ۔ جب عذاب الہی کا نزول ہوتا ہے تو تو بہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ پس کیا ہی سعید وہ ہے جو عذاب الہی کے نزول سے پیشتر دعا میں مصروف رہتا ہے صدقات دیتا ہے اور امر الہی کی تعظیم اور خلق اللہ پر شفقت کرتا ہے۔ اپنے اعمال کو سنوار کر بجالاتا ہے یہی ہیں جو