ملفوظات (جلد 3) — Page 360
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۰ جلد سوم سے بھر جاتی ہے لوگ اسباب پرستی میں ایسے فنا اور منہمک ہوتے ہیں کہ گویا خدا کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔ ایسے وقتوں میں خدا تعالیٰ اپنے اظہار کے واسطے ایک بندہ اپنی طرف سے بھیج دیتا ہے ہندوؤں نے جو او تار کا مسئلہ مانا ہے یہ بھی اسی کا ہمرنگ ہے گویا خدا تعالیٰ ان کے اندر مجازی طور پر بولتا ہے۔ اس زمانہ میں اسباب پرستی اور دنیا پرستی اس طرح پھیل گئی ہے خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور ایمان نہیں رہا۔ دہریت اور الحاد کا زور ہے جو کچھ حالت اس وقت زمانے کی ہورہی ہے اس پر نظر کر کے کہنا پڑتا ہے کہ زمانہ زبانِ حال سے پکار رہا ہے کہ کوئی خدا نہیں ۔ عملی حالت ایسی کمزور ہو گئی ہے کہ کھلی بے حیائی اور فسق و فجور بڑھ گیا ہے یہ ساری باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ دلوں سے خدا پر ایمان اور اس کی ہیبت اُٹھ گئی ہے اور کوئی یقین اس ذات پر نہیں۔ ورنہ یہ کیا بات ہے کہ انسان کو اگر معلوم ہو جاوے کہ اس سوراخ میں سانپ ہے تو وہ کبھی اس میں اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا پھر یہ بے حیائی اور فسق و فجور - اتلاف حقوق جو بڑھ گیا ہے کیا اس سے صاف معلوم نہیں ہوتا کہ خدا پر ایمان نہیں رہا یا یہ کہو کہ خدا گم ہو گیا ہے۔ اس وقت خدا تعالیٰ نے اپنے ظہور کا ارادہ فرمایا اور مجھے مبعوث کیا اس لئے مجھے کہا کہ أَنْتَ مِنِّی وَ أَنَا مِنْكَ ۔ اور اس کے یہی معنے ہیں کہ میرا جلال اور میری توحید و عظمت کا ظہور تیرے ذریعہ ہوگا ۔ چنانچہ وہ نصرتیں اور تائیدیں : ب جو اس نے اس سلسلہ کی کی ہیں اور جو نشانات ظاہر ہوئے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی توحید اور عظمت کے اظہار کے ذریعہ ہیں۔ یہ امر کوئی ایسا امر نہیں کہ مشتبہ یا مشکوک ہو بلکہ تمام مذاہب میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے کہ ایک وقت خدا کے ظہور کا آتا ہے اور ایک وقت ہوتا ہے کہ خدا اس وقت گم ہوا ہوا سمجھا جاتا ہے یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس کی ہستی اور توحید اور صفات پر ایمان نہیں رہتا اور عملی رنگ میں دنیا دہر یہ ہو جاتی ہے۔ اس وقت جس شخص کو خدا اپنی تجلیات کا مظہر قرار دیتا ہے وہ اس کی ہستی تو حید اور جلال کے اظہار کا باعث ٹھہرتا ہے اور وہ انا منك كا مصداق ہوتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ خدا تعالیٰ کو کسی ذریعہ کی کیا ضرورت ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ یہ سچ ہے اس کو کوئی