ملفوظات (جلد 3) — Page 27
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷ جلد سوم قضا و قدر کا دعا کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔ دعا کے ساتھ معلق تقدیر ٹل جاتی ہے۔ جب مشکلات پیدا ہوتے ہیں تو دعا ضرور اثر کرتی ہے۔ جو لوگ دعا سے منکر ہیں ان کو ایک دھوکا لگا ہوا ہے۔ قرآن شریف نے دعا کے دو پہلو بیان کئے ہیں۔ ایک پہلو میں اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ ( البقرة : ۱۵۶) میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہتا ہے۔ نونِ ثقیلہ کے ذریعہ سے جو اظہار تاکید کیا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کہ قضائے مبرم کو ظاہر کریں گے تو اس کا علاج إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ (البقرة : - کاسه منشا یہ لبقرة : ۱۵۷) ہی ہے۔ اور دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے وہ اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لكم (المؤمن : ۶۱) میں ظاہر کیا ہے۔ پس مومن کو ان دونو مقامات کا پورا علم ہونا چاہیے۔ صوفی کہتے ہیں کہ فقر کامل نہیں ہوتا جب تک محل اور موقع کی شناخت حاصل نہ ہو بلکہ کہتے ہیں کہ صوفی دعا نہیں کرتا جب تک کہ وقت کو شناخت نہ کرے۔ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا کے ساتھ شقی سعید کیا جاتا ہے بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شدید الاختفا امور مشتبہ بالمبرم بھی دور کیے جاتے ہیں ۔ الغرض دعا کی اس تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی وہ مان لیتا ہے۔ یہ معاملہ گو یا دوستانہ معاملہ ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی عظیم الشان قبولیت دعاؤں کی ہے اس کے مقابل رضا اور تسلیم کے بھی آپ اعلیٰ درجہ کے مقام پر ہیں۔ چنانچہ آپ کے گیارہ بچے مر گئے مگر آپ نے کبھی سوال نہ کیا کہ کیوں؟ جولوگ فقراء اور اہل اللہ کے پاس آتے ہیں اکثر اُن میں سے محض آزمائش اور امتحان کے لیے آتے ہیں۔ وہ دعا کی حقیقت سے نا آشنا ہوتے ہیں اس لیے پورا فائدہ نہیں ہوتا۔ عقل مند انسان اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر دعا نہ ہوتی تو اہل اللہ مر جاتے ۔ جو لوگ دعا کے منافع سے محروم ہیں ان کو دھوکا یہی لگا ہوا ہے کہ وہ دعا کی تقسیم سے ناواقف ہیں۔ میرا جب سب سے پہلا لڑ کا فوت ہوا تو اس کو ایک سخت غشی کی حالت تھی۔ گھر میں اس کی والدہ