ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 306

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۶ جلد سوم فرمایا۔ جیسے مسیح پر کفر کا فتوی لگا کر ان کو صلیب پر چڑھایا گیا ایسا واقعہ کسی نبی کے ساتھ نہیں ہوا۔ گناہ کا کمال کفر پر جا کر ہوتا ہے اور مسیح پر یہودیوں نے کفر کا فتوی لگا یا ( ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں نے برخلاف اس کے آپ کو الا مین اور المامون کہا۔ مسیح کے مخالفوں کا ان کی نسبت کفر کا فتویٰ دینا اور آپ کے مخالفوں کا آپ کو الا مین کہنار تنبہ اور درجہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا فرق بتاتا ہے۔ لے ۲۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء مولوی جمال الدین صاحب ساکن سید والہ نے سوال کیا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی بابت جو آیا ہے کہ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمزا (ال عمران : ۴۲) ۔ کیا اس سے یہ مراد ہے کہ وہ کلام نہ کریں گے۔ فرمایا۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ لا تَسْتَطِيعُ نہیں کہا۔ سلیمان علیہ السلام کے لئے جو آیا ہے کہ لوہا نرم کر دیا اس سے کیا مراد ہے؟ معجزہ کی حقیقت فرمایا۔ تدابیر مشہودہ سے الگ ہو کر جو فعل ہوتا ہے اس میں اعجازی رنگ ہوتا ہے۔ معجزات جن باتوں میں صادر ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے افعال ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان میں شریک ہوتے ہیں مگر نبی ان تدابیر اور اسباب سے الگ ہو کر وہی فعل کرتا ہے اس لئے وہ معجزہ ہوتا ہے اور یہی بات یہاں سلیمان کے قصہ میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کیا لوگ قصائد نہ کہتے تھے؟ کہتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام فصیح و بلیغ پیش کیا تو وہ جوڑ توڑ کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وحی سے تھا۔ اس لئے معجزہ تھا کہ درمیان اسباب عادیہ نہ تھے۔ آپ نے کوئی تعلیم نہ پائی تھی اور بدوں کوشش کے وہ کلام آپ نے پیش کیا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۵