ملفوظات (جلد 3) — Page 290
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۰ جلد سوم بھی ان پر ایمان نہیں لا یا وہ کہتا تھا کہ میں آنے والے سے اول آیا ہوں مگر اس نے ان کو مسیح نہیں مانا اور اسی لئے جب اس سے پوچھا گیا کہ تو ایلیا ہے تو اس نے انکار کر دیا۔ نیک نیتی کے ساتھ اسے ( یحیی کو ) کچھ امور پیش آگئے اس نے خیال کیا ہو گا کہ جب اس نے خود میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے تو یہ مسیح کیسے ہوگا ۔ ان ( عیسائیوں) پر سخت مشکلات ہیں بے وقوف ہیں جو اپنی پردہ دری کراتے ہیں۔ پھر حضرت اقدس نے مفتی محمد صادق صاحب کو حکم دیا کہ ملک صدق کا حال دیکھنا جس نے حضرت ابراہیم کو تحفہ اور سوغات دیئے تھے۔ کیونکہ یہ تین آدمیوں کو مسیح کے علاوہ بے گناہ کہا کرتے ہیں ایک ملک صدق ، دوسری مریم ، تیسرے بی۔ ان کے نزدیک تو سیح اور مریم ہی میں شیطان سے پاک ہیں مگر قرآن نے مساوی رکھا ہے کہ ہر ایک راستباز میں شیطان سے پاک ہے۔ کچھ تہمتیں چونکہ مسیح علیہ السلام پر آگئی تھیں کہ یہودی لوگ ان کو میں شیطان سے منسوب کرتے تھے اور طرح طرح کی باتیں اور الزام لگاتے تھے اس لئے ان کا ذب ضروری تھا ان پر سخت الزام تھے اور اب تک وہی ۔ وہی چلے آتے ہیں ۔ سوخدا نے وہی (الزام) اتارے۔ دوسروں ( نبیوں ) پر اس قدر الزام نہ تھے اس لئے ان کے ایسے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی کا خاصہ ہے کہ جیسے جیسے یہ بہت پیچھے پڑے ہیں اس طرف سے بہت باتیں نکلتی آتی ہیں ۔ لوگ کہا کرتے ہیں کہ فقیراں دی بد دعا لگ جاندی ہے اسی طرح عیسی کی بددعا ان کو لگ گئی جو وہ دیا کرتے تھے کہ تم بے ایمان ہو۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب بات انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو بے ایمانوں سے جواب تو بن نہیں آتا اس لئے آخر خاموش ہو کر پیچھا چھوڑاتے ہیں۔ پھر اندرونی مخالفوں کی حالت پر فرمایا کہ اندرونی مخالفوں کا ذکر اگر کوئی تحریر نہیں کرتے تو دس بارہ آدم مل کر آئیں کہ ہمیں متن یہ و کی طلب ہے اور آدمیت کی بحث کریں جس میں چند ایک منصف مزاج بھی موجود ہوں اور تمام باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں کہ حقیقت کھل جاوے مگر یہ لوگ ایسی بات کبھی نہیں چاہتے ۔ دراصل یہ لوگ اب سرد ہو گئے ہیں اپنی حفاظتوں کو مقدم رکھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی ان (مرزائیوں )