ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 273

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۳ جلد سوم کوئی حدیث ہوتی تو پھر اسے غایت مرتبہ ظن کا ہوتا مگر اصل میں ان لوگوں کو یقین ہی نہیں ہے۔ مگر کیا قساوت قلبی ہے کہ جس قدر گندی اور فحش باتیں ہیں اور تحقیر اور تو ہین ممکن تھی اور جہاں تک ان کا ہاتھ پڑتا تھا وہ تمام افترا بنائے ۔ صرف چند ایک باتیں گورنمنٹ کے قانون کے ڈر سے ان سے باقی رہ گئی ہیں ۔ اکا لئے جو ہوئے ۔ پھر اس کے بعد میاں احمد دین صاحب عرائض نویس درجه اول ساکن گوجرانوالہ سے حضرت اقدس بعض قانونی وجوہات پر گفتگو فرماتے رہے ایک مقام پر فرمایا کہ قانون بھی ایک موم کی ناک ہوتا ہے اس لئے کچھی بات ہرگز نہ پیش کرنی چاہیے اور ایسی کچی بات کے پیش کرنے سے تو اس کا پیش نہ کرنا ہی اچھا ہے۔ ( بوقت مغرب ) بعد ادائے نماز حکیم نور الدین صاحب نے ایک نو مسلم پشاوری کا ایک نو مسلم پشاوری کا ذکر حال سنایا جو کہ گذشتہ ماہ میں پشاوری جماعت کے ساتھ پشاور سے آیا تھا اور حضرت سے بیعت کی تھی ۔ ان نو مسلم صاحب کو اہلِ اسلام پشاور نے امدادی چندہ کر کے ایک دوکان کھول دی تھی حکیم صاحب نے بیان کیا کہ آج اس کا خط آیا ہے اس نے لکھا ہے کہ مسلمانوں نے جو امدادی طور پر چندہ سے مجھے دوکان کھول دی تھی وہ اب اس لئے ضبط کر لی ہے کہ میں قادیان گیا اور بیعت کی۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ ابتلا ہے۔ صبر کرنا چاہیے۔ پھر آج صبح جو گفتگو حفاظت الہی کے وعدوں کے متعلق حضرت اقدس نے سیر میں کی تھی اس کا اعادہ حکیم نورالدین صاحب سے کیا اور اپنے الہام اور گھر کا خواب سنایا۔ اس گفتگو میں حضرت اقدس نے یہ بھی فرمایا۔ سعید فرقہ جو کہ عذاب سے نجات پانے والا ہے وہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ٧) ہے اور جو عذاب میں مبتلا ہونے والا ہے وہ مغضوب علیہم ہے۔ مغضوب علیہم اور ضالین میں وہی فرق ہے جوا ایک مریض ا