ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 20

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰ جلد سوم پر کھولے ہوئے ہیں کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں جو مجھے لاحق حال ہیں ۔ دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں عوام ، متوسط درجے کے، اُمراء ۔ عوام عموماً آداب تبلیغ کم فہم ہوتے ہیں۔ ان کی سمجھ موٹی ہوتی ہے۔ اس لیے اُن کو سجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اُمراء کے لیے سمجھانا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں اور اُن کا تکبر اور تعلی اور بھی سد راہ ہوتی ہے ۔ اس لیے اُن کے ساتھ گفتگو کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اُن کے طرز کے موافق اُن سے کلام کرے یعنی مختصر مگر پورے مطلب کو ادا کرنے والی تقریر ہو قل وَ دَلَّ۔ مگر عوام کو تبلیغ کرنے کے لیے تقریر بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہیے۔ رہے اوسط درجہ کے لوگ زیادہ تر یہ گروہ اس قابل ہوتا ہے کہ ان کو تبلیغ کی جاوے۔ وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے مزاج میں وہ تعلی اور تکبر اور نزاکت بھی نہیں ہوتی جو اُمراء کے مزاج میں ہوتی ہے اس لیے ان کو سمجھانا بہت مشکل نہیں ہوتا۔ جب انبیاء علیہم السلام مامور ہو کر بعثت انبیاء پر لوگ کس طرح ہدایت پاتے ہیں دنیا میں آتے ہیں تو لوگ تین ذریعوں سے ہدایت پاتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ تین ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ظالم، مقتصد اور سابق بالخیرات ۔ اول درجے کے لوگ تو سابق بالخیرات ہوتے ہیں جن کو دلائل اور معجزات کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔ وہ ایسے صاف دل اور سعید ہوتے ہیں کہ مامور کے چہرہ ہی کو دیکھ کر اس کی صداقت کے قائل ہو جاتے ہیں اور اُس کے دعوی کو ہی سن کر اس کو برنگ دلیل سمجھ لیتے ہیں۔ اُن کی عقل ایسی لطیف واقع ہوئی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ انبیاء کی ظاہری صورت اور ان کی باتوں کو سن کر قبول کر لیتے ہیں۔ دوسرے درجہ کے لوگ مقتصد ین کہلاتے ہیں جو ہوتے تو سعید ہیں مگر اُن کو دلائل کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ شہادت سے مانتے ہیں۔ تیسرے درجہ کے لوگ جو ظالمین ہیں ان کی طبیعت اور فطرت کچھ ایسی وضع پر واقع ہوتی ہے