ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 260

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۰ جلد سوم بارے میں ہے اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ ( ص : ۷۶ ) یہ اس سے سوال ہے کہ تیرا علو تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی ہے۔ خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلیٰ کا لفظ آیا اور ہمیشہ آتا ہے جیسے إِنَّكَ انْتَ الاعلیٰ (طه: ۶۹) مگر یہ تو انکسار سے ہوتا ہے اور وہ تکبر سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ لے شاہ عبد العزیز صاحب کے شاہ عبدالعزیز صاحب کے ایک شاگرد کا غلط فتوی شاگردوں میں سے ایک کا ذکر ہوا فرمایا کہ ایک دفعہ وہ شاید بٹالہ میں تھے تو ایک نے حقہ کا فتویٰ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا (حالانکہ غلط تھا) حقہ دو قسم کا ہے ایک وہ جو کہ تکیوں میں ہوتا ہے دس دس دن تک پانی نہیں بدلتے اسے غسل نہیں دیتے وہ تو حرام ہے اور دوسرا جس کا پانی بدلتا رہتا ہے اور اسے غسل دیتے رہتے ہیں وہ حلال ہے۔ پھر اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب ایک مردوں کے قبروں سے نکلنے کی تعبیر انگریزی کتاب حضرت اقدس کو سناتے رہے جس میں ایک موقع پر یہ بھی تھا کہ جب مسیح کو صلیب دی گئی تو اس وقت مردے قبروں میں سے نکلے ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ عالم رویا میں مردہ کے قبر سے نکلنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ کوئی گرفتار آزاد ہو ممکن ہے کہ کسی نے اس وقت کشفی عالم میں یہ دیکھا ہو ورنہ یہ اپنے ظاہری معنوں پر ہرگز نہیں ہوا۔ ے علو کے ذکر میں الحکم میں مندرجہ ذیل مضمون بیان ہوا ہے۔ دو یہ علو جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے اور شیطان کا علوّ استکبار سے ملا ہوا تھا۔ دیکھو ! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔ جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۷)