ملفوظات (جلد 3) — Page 253
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۳ جلد سوم جاتا رہتا ہے پس اس وقت وہی سعید سعادت کے دامن کے اندر ہے جو اس خطرناک وقت میں ٹھٹھے کرنے والوں کی مجلس میں نہ بیٹھے اور خدا سے تنہائی میں دعائیں کرے اور اس سے ڈرے کہ ایسا نہ ہو رات کو یا دن کے کسی حصہ میں اس کا عذاب آجاوے۔ قرآن مجید کے ہوتے ہوئے ایک مصلح کی ضرورت پھر اس نوجوان نے عرض کیا کہ انہوں نے یہ سوال بھی مجھ سے کیا کہ قرآن شریف تو محرف مبدل نہیں ہوا کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا کہ کیا خدا کی طرف سے کسی کے آنے کی ضرورت کا ایک یہی باعث ہے کہ قرآن شریف محرف مبدل ہو؟ اور علاوہ بریں قرآن شریف کی معنوی تحریف تو کی جاتی ہے جبکہ اس میں لکھا ہے کہ مسیح مر گیا اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر چڑھ گیا اور تحریف کیا ہوتی ہے؟ یہ لوگ تحریف تو کر ده زنده آستان رہے ہیں اور پھر مسلمانوں کی عملی حالت بہت ہی خراب ہو رہی ہے نیچریوں ہی کو دیکھو انہوں نے کیا چھوڑا ہے بہشت دوزخ کے وہ قائل نہیں ۔ ملائکہ کے وہ قائل نہیں ، وحی اور دعا اور معجزات کے وہ منکر ہیں انہوں نے یہودیوں کے بھی کان کاٹے یہاں تک کہ تثلیث میں بھی نجات مان لی۔ یہ حالت ہو چکی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ کسی آنے والے کی ضرورت نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ دنیا تو گناہ سے بھر گئی ہے مگر ان کی حالت ایسی مسخ ہوتی ہے کہ وہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ کسی مصلح کی بھی ضرورت ہے مگر عنقریب وقت آتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو معلوم کرائے گا اور اس کے غضب کا ہا تھ اب نکلتا آتا ہے۔ زمانہ تو ایسا تھا کہ رو رو کر راتیں کاٹتے مگر ان کی اس شوخی سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ہی بد بخت ہیں ۔ گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خدا کا خوف دل پر ہو اور گناہ سے بچنے کا ذریعہ جب خدا چاہتا ہے تو اپنا خوف ڈال دیتا ہے۔ محبت کا محبت بھی ایک ذریعہ گناہ سے بچنے کا ہے مگر یہ بہت اعلیٰ مقام ہے مگر خوف ایک عام ذریعہ ہے جس سے جوان بھی ڈر جاتا ہے خصوصاً ان دنوں میں بلکہ بعض طبیبوں کا قول ہے کہ جوانوں کو بڑھوں کی نسبت طاعون کا زیادہ