ملفوظات (جلد 3) — Page 232
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۲ جلد سوم پڑھ لیں گے۔ دہلی کے جلسہ سے پہلے نزول مسیح بھی تیار ہو جاوے تو اچھا ہے۔ ۵ ۔ ایڈیٹر الحکم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میاں نبی بخش صاحب عرف عبدالعزیز صاحب نمبردار بٹالہ کا تو بہ نامہ جو اُس نے بھیجا ہے۔ الحکم میں چھاپ دیا جاوے۔ اور ساتھ اپنا ایک رویا بھی جسے بار ہا آپ نے فرمایا ہے سنایا کہ میں نے ایک بار اس کے متعلق دیکھا تھا کہ گویا اسی راستہ ہم سیر کو نکلے ہیں تو اس بڑ کے درخت کے نیچے جو میراں بخش حجام کی حویلی کے پاس ہے۔ نبی بخش سامنے سے آکر ملا ہے اور اس نے مصافحہ کیا ہے۔ یہ رویا ان دنوں کی ہے جب وہ مخالفت کے اشتہار چھپواتا پھرتا تھا۔ جماعت کی ترقی اور اس کے متعلق براہین احمدیہ میں پیشگوئیاں ۲۔ جماعت کی ترقی پر اور مولوی محمد حسین کے ابھی تین سو تیرہ ہی کہتے رہنے پر فرمایا کہ بڑے زور سے ترقی ہو رہی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ خدا قادر ہے کہ ایک دم میں تین سو تیرہ سے تین لاکھ تیرہ ہزار کر دے۔ یہ ترقی محمد حسین کے لیے تو اعجاز ہے۔ اگر وہ سوچے اور سمجھے براہین احمدیہ کو پڑھے۔ یہ کتاب میں نے اب تو نہیں بنائی جس میں لکھا ہوا ہے کہ تیرے ساتھ فوجیں ہوں گی۔ باوجود مولویوں کی اس قدر مخالفت کے پھر اس قوم کا ترقی کرنا کیا یہ معجزہ نہیں ۔ جبکہ وہ اپنے ارادوں میں عاجز آگئے ۔ کس قدر جد و جہد ان لوگوں نے ہمارے نابود کرنے کے لیے کی ۔ گورنمنٹ تک سے چاہا کہ کسی نہ کسی طرح سے ہم کو پھنسا ئیں ۔ مگر خدا تعالیٰ نے ایسی زور شور سے ترقی کی جس قدر زور انہوں نے مخالفت میں لگایا۔ اب تو بات صاف ہوگئی ہے۔ مردم شماری کے کاغذات سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ہماری جماعت تین سو تیرہ ہے یا ایک لاکھ کے قریب ۔ طاعون نے ان کو دو طرح گٹھایا ہے۔ کچھ مرتے ہیں اور اکثروں کو ادھر ملایا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جو بیچ اچھی طرح بویا جاوے اور وقت پر بارش بھی ہو وہ دیکھتے ہی دیکھتے نشو نما پاتا اور ترقی کرتا ہے۔ دلوں کو کھینچنا اور قائم رکھنا یہ خدا کا کام ہے۔ ان مخالفوں کو اگر اب ابوسفیان کی طرح نظارہ کرایا