ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 223

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۳ جلد سوم ہے تو اس کے دل میں ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے۔ پس جب تک دل کا واعظ نہ ہو تسلی نہیں ہو سکتی۔ پس دینی امور میں جب تک تقوی نہ ہو روح القدس سے تائید نہیں ملے گی ۔ وہ شخص ضرور ٹھوکر کھا کر گرے گا۔ اس دین کی جڑ تقوی اور نیک بختی ہے اور یہ مکن نہیں جب تک خدا پر یقین نہ ہو۔ اور یقین سوائے خدا کے اور سے ملتا نہیں اسی ۔ ملتا نہیں اسی لیے فرمایا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ٧٠) پس انسان دنیا کو چھوڑ کر اپنی زندگی پر نظر ڈالے اور اپنی حالت پر رحم کرے کہ میں نے دنیا میں کیا بنایا سوچے اور ظاہری الفاظ کی پیروی نہ کرے۔ اور دعا میں مشغول رہے تو امید ہے کہ خدا اس کو اپنی راہ دکھا دے گا۔ نیک دل لے کر خدا کے سامنے کھڑا ہو اور رو رو کر دعائیں مانگے ۔ تضرع اور عاجزی کرے تب ہدایت پاوے گا۔ ایک فرقہ وہ بھی ہے جو ہماری باتوں کو قبول نہیں کرتا۔ اس سے ہماری بحث نہیں ۔ اُن کی سرشت میں انکار ہے۔ وہ موت کے بعد اس کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔ سعادت مند کو تو سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ پتھر پر لوہا مارنے سے آگ اس لئے نکلتی ہے کہ آگ پتھر میں موجود ہے اور وہ صرف ضرب کا محتاج تھا ، مگر جس کے اندر موجود نہیں اس میں سے کیا نکلے گا۔ ہر ایک نیکی تب قبول ہوتی ہے جب کہ اس کے اندر تقوی ہو ور نہ قبول نہیں ہوتی ۔ زندگی تو برف کے ٹکڑے کی مثال رکھتی ہے۔ ہزاروں پر دوں میں رکھو پگلتی جاوے گی۔ اصل میں مخالف کی بات کا امتحان مخالف سے پوچھ کر ہوتا ہے۔ میں نے تو اپنا مسلک بیان کر دیا ہے۔ میرے پاس بہت عیسائی آیا کرتے تھے ، اب نہیں آتے ۔ میں تو ہمیشہ ان کو یہی کہتا ہوں کہ زندہ مذہب ثابت کرو۔ مردہ تو ہمیں اُٹھانا پڑے گا اور زندہ ہم کو اُٹھاوے گا، کچھ جواب نہیں دے سکتے ۔ یورپ امریکہ میں ۱۶ ہزار اشتہار رجسٹری کرا کر بھیجا کوئی جواب نہیں آیا۔ ہمارا خدا زندہ ہے۔ ہماری آواز سنتا ہے۔ ہمیں جواب دیتا ہے۔ پس ہم صلیب پر چڑھے ہوئے خدا کو کیوں مانیں۔ یہ لوگ شریر ہوتے ہیں اور ان کے پاس باتیں ہی باتیں ہوتی ہیں۔ میں ۱۵ برس کا تھا جب سے ان کے اور میرے درمیان مباحثات شروع ہیں۔ ان کے پاس صرف اعتراض