ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 15

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵ جلد سوم کے لوگ تو حُسن سے فائدہ اُٹھاتے اور جو اُن سے کم درجہ پر ہوں وہ احسان سے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ لیکن جو ایسے ہی پلید طبع ہوں اُن کو اپنے جلال اور غضب سے متوجہ کیا ہے۔ یہودیوں کو مغضوب کہا ہے اور ان پر طاعون ہی پڑی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں یہودیوں کی راہ اختیار کرنے سے منع فرمایا۔ یا یوں کہو کہ طاعون کے عذاب شدید سے ڈرایا ہے۔ شیطان بے باک انسان پر ایسا سوار ہے کہ وہ سن لیتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔ اصل یہ ہے کہ جب تک جذبات اور شہوات پر ایک موت وارد ہو کر انہیں بالکل سرد نہ کر دے خدا تعالیٰ پر ایمان لانا مشکل ہے۔ اب تو غضب الہی کے نمونے خطر ناک ہیں ابھی تین مہینے باقی ہیں خدا جانے کیا ہونے والا ہے۔ مخالفوں کی خطرناک فحش تحریروں پر فرمایا کہ مخالفین کے لیے لمحہ فکریہ ہمارے اور اُن کے دل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ خدا تعالیٰ نیتوں کو خوب جانتا ہے اور ان افعال کو جو ہم کر رہے ہیں دیکھتا ہے۔ وہ خود فیصلہ کر دے گا اور سچائی پر اپنی مہر کر دے گا۔ ہم کو تو یہ تعجب آتا ہے کہ اگر یہ لوگ تقویٰ اور خدا ترسی سے کام لیتے تو خوف کے محل اور مقام سے ڈر جاتے اور مخالفت میں اس قدر زبان درازی نہ کرتے ۔ وہ دیکھتے کہ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ مسیح موعود نازل ہو؟ کیا صلیب کا غلبہ نہیں؟ کیا اسلام کی تو ہین اور تضحیک نہیں کی جاتی ؟ وہ دیکھتے کہ صدی میں سے انیس سال گزر گئے اور کوئی مدعی کھڑا نہ ہوا جو درماندہ اسلام کی حمایت کے لیے میدان میں آتا۔ پھر ضرورت اور وقت ہی پر اپنی نگاہ محدود نہ رکھتے اگر وہ غور کرتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ آسمان نے صاف شہادت دے دی اور کسوف خسوف ظاہر ہو گیا جو عظیم الشان نشان مقرر ہو چکا تھا۔ تائیدی نشانوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے وہ اُسے دیکھتے اور سلسلہ کی ترقیات پر غور کرتے اور سوچتے کہ کیا مفتری اسی طرح ترقی کیا کرتے ہیں؟ ان سب امور پر یکجائی نظر کے بعد تقویٰ کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس قدر بین شواہد کے ہوتے ہوئے بھی اگر ان کی نگاہ تاریک تھی تو وہ خاموش ہو جاتے اور صبر سے انتظار کرتے کہ انجام کیا ہوتا ہے؟ مگر