ملفوظات (جلد 3) — Page 220
ملفوظات حضرت مسیح موعود آتا جاتا ہے۔ ۲۲۰ جلد سوم انسان کو سچائی تک پہنچنے کے واسطے دو باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا داد عقل اور فہم ہو۔ دوم خدا داد سمجھ اور سعادت ہو ۔ جن لوگوں کو مناسبت نہیں ہوتی ان کے دلوں میں کراہت اور اعتراض ہی پیدا ہوتے جاتے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ لوگوں میں سے اکثر لوگوں نے راستبازوں کا انکار کیا ۔ آپ دور دراز سے آئے ہیں اور آپ کو آتے ہی ایک روک بھی پیدا ہو گئی۔ اور ہم نے تو ایک ہی روک کا ذکر سنا ہے۔ مخالفانہ گفتگو کے بجز احقاق حق نہیں ہوتا۔ بہت لوگ منافقانہ طور پر ہاں میں ہاں ملا لیتے ہیں۔ پس ایسے لوگ کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ تم خوب جی کھول کر اعتراض کرو۔ ہم پورے طور پر جواب دینے کو تیار ہیں ۔ مولوی حامد حسین صاحب کی طرف سے سوال ہوا کہ تمام سچے مذہب کی شناخت اہل مذاہب اپنے مذہب کو صیح خیال کر رہے ہیں۔ ہم فیصلہ کس طور کریں؟ بات یہ ہے کہ آجکل بلکہ ہمیشہ سے سچے مذہب کی شناخت کے لئے ضروری ہے اتیں اس میں موجود ہوں۔ اول یہ کہ اس کی تعلیم پاک ہو۔ اور تعلیم ہر انسان کی عقل اور کانشنس کا کوئی اعتراض نہ ہو کیونکہ ناممکن ہے کہ خدا کے امور نا پاک ہوں۔ دوم اس کے ساتھ تائیدات سماویہ کا سلسلہ ایسا وابستہ ہو کہ جس کے ساتھ انسان خدا کو پہچان سکے اور اس کی تمام صفات کا مشاہدہ کرے تا کہ گناہ سے بچ سکے ۔ گو انسان سچے مذہب میں ہی داخل ہو پر اگر اس کے ساتھ کشتی نہیں تو وہ ایسے چشمہ کی مثل ہے کہ جو ایسی جگہ واقع ہے جس کے ارد گرد پہاڑ یا دیوار یا ایسا خارستان ہے کہ وہاں ہم کسی طرح پہنچ نہیں سکتے ۔ پس ایسا چشمہ ہمارے لئے فضول ہے۔ غرض ضروری شرط یہ ہے کہ اس قدر اسباب موجود ہوں جن سے پکی طرح پر معرفتِ الہی پیدا ہو جائے ۔ یہ بات بھی بدیہی ہے کہ انسان کو زیادہ مصیبت اس بات کی ہے کہ طرح طرح کے مصائب شدائد کسل وغیرہ کیڑے ایسے لگے ہوئے