ملفوظات (جلد 3) — Page 217
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۷ جلد سوم صندوقوں اور کپڑوں میں لپیٹ کر رکھو لیکن وہ پگھلتی ہی جاتی ہے۔ اسی طرح پر خواہ زندگی کے قائم رکھنے کی کچھ بھی تدبیریں کی جاویں لیکن یہ سچی بات ہے کہ وہ ختم ہوتی جاتی ہیں اور روز بروز کچھ نہ کچھ فرق آتا ہی جاتا ہے۔ دنیا میں ڈاکٹر بھی ہیں طبیب بھی ہیں مگر کسی نے عمر کا نسخہ نہیں لکھا۔ جب لوگ بڑھے ہو جاتے ہیں ۔ پھر ان کے خوش کرنے کو بعض لوگ آجاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ابھی تمہاری عمر کیا ہے؟ ساٹھ برس کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے۔ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ رحمت علی ایک مذکوری تھا۔ اس کا بیٹا فقیر علی منصف ہو گیا تھا اور لوگ اس وجہ سے اس کی عزت بھی کیا کرتے تھے۔ ڈپٹی قائم علی نے ایک دفعہ اس سے پوچھا کہ تمہاری کیا عمر ہے؟ اس نے کہا کہ ۵۵ سال کی ہوگی حالانکہ وہ ۶۵ سال کا تھا۔ قائم علی نے اس کو کہا کہ کیا ہوا ابھی تو بچے ہو ۔ خود بھی وہ یہی عمر بتا یا کرتا تھا۔ میں نے کہا کہ ۵۵ کا سال بڑا مشکل ہے یہ ختم ہونے میں نہیں آتا ۔ غرض انسان عمر کا خواہشمند ہو کر نفس کے دھوکوں میں پھنسا رہتا ہے۔ دنیا میں عمریں دیکھتے ہیں کہ ۶۰ کے بعد تو قوی بالکل گداز ہونے لگتے ہیں ۔ بڑا ہی خوش قسمت ہوتا ہے جو ۸۰ یا ۸۲ تک عمر پائے اور قومی بھی کسی حد تک اچھے رہیں ۔ ورنہ اکثر نیم سودائی سے ہو جاتے ہیں۔ اُسے نہ تو پھر مشورہ میں داخل کرتے ہیں اور نہ اس میں عقل اور دماغ کی کچھ روشنی باقی رہتی ہے۔ بعض وقت ایسی عمر کے بڑھوں پر عورتیں بھی ظلم کرتی ہیں کہ کبھی کبھی روٹی دینی بھی بھول جاتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ در جوانی کار دو جہانی کن۔ اور مشکل یہ ہے کہ انسان جوانی میں مست رہتا ہے اور مرنا یاد نہیں رہتا ، بُرے برے کام اختیار کرتا ہے اور آخر میں جب سمجھتا ہے تو پھر کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ غرض اس جوانی کی عمر کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ ه نشان زندگانی تا بسی سال چو چہل آمد فرو ریزد پر و بال انحطاط عمر کا ۴۰ سال سے شروع ہو جاتا ہے ۔ ۳۰ یا ۳۵ برس تک جس قدر قد ہونا ہوتا ہے وہ پورا ہو جاتا ہے اور بعد اس کے بڑھے ہو کر پھولنا شروع ہو جاتا ہے اور پھولنے کا نتیجہ فالج ہو جاتا ہے۔