ملفوظات (جلد 3) — Page 202
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۲ جلد سوم اعتراف کرتا ہے اور موت کا وقت دیتا ہے۔ مفتی صاحب نے یہ عظیم الشان خوشخبری حضرت کو سنائی۔ پھر نماز مغرب ادا ہوئی۔ ( بعد نماز مغرب ) حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کے اخلاص اور نور فراست کا ذکر بعد ادائے نماز مغرب حجۃ اللہ حسب معمول شده نشین پرا شه ستین پر اجلاس فرما ہوئے ۔ بیٹھتے ہی حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب نے مبارکباد دی اور عرض کیا کہ حضور ڈاکٹر صاحب کو بہت ہی مخلص پایا ہے۔ کوئی بات انہوں نے نہیں کی۔ یہی کہا کہ جو حکم دیا ہے وہ کرو۔ بھائیوں میں سے بھی کوئی شریک نہیں ہوا۔ فرمایا ۔ خدا تعالیٰ نے ان کو بہت اخلاص دیا ہے اور یہ تقریب پیدا کر دی کہ مخالف بھائیوں سے قطع تعلق ہو جاوے۔ پھر مولوی صاحب نے عرض کی کہ باوجود یکہ کوئی تکلف کی بات نہ تھی مگر وہ بڑی ہی خاطر و تواضع سے پیش آئے اور اسی میں اِدھر اُدھر پھرتے رہے۔ فرمایا ۔ ان میں اہلیت اور زیر کی بہت ہے۔ اس پر حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور جب الحکم میں میرا ایک خطبہ فلا و ربک پر شائع ہوا تو انہوں نے بڑے ہی اخلاص اور صدق سے خط کے اخلاص اور صدق سے خط لکھا کہ اس کو پڑھ کر میرا ایمان بڑا قوی اور تازہ ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ اُن میں نور فراست ہے۔ وہ اپنے باپ سے بھی اس معاملہ میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ حافظ محمد یوسف کا ذکر آگیا کہ اس نے اشتہار حافظ محمد یوسف اور قطع الوتين دیا ہے اور اس میں قطع الوتین کا حوالہ دیا ہے۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین کی ہے کہ ایک مفتری کو بھی وہ تسلیم کرتا ہے کہ ۲۳ برس تک زندہ رہتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ نے آپ کی صداقت کا یہ عملی زمانہ مقرر کیا ہے۔