ملفوظات (جلد 3) — Page 200
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۰ جلد سوم لیے ہے، پایا نہیں جاتا اور پھر اعلان بالدف کو فقہاء نے جائز رکھا ہے اور اصل اشیاء حلّت ہے، اس لیے شادی میں اعلان کے لیے جائز ہے۔ پھر یہ سوال کیا گیا کہ لڑکی یا لڑکے والوں کے ہاں جو شادی کے موقع پر لڑکیوں کا گانا جوان عورتیں ایک گھر میں گاتی ہیں۔ وہ کیا ہے؟ جوان فرمایا۔ اصل یہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح پر ہے اگر گیت گندے اور نا پاک نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے۔ مسجد میں ایک صحابی نے خوش الحانی سے شعر پڑھے تو حضرت عمر نے ان کو منع کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے ہیں تو آپ نے منع نہیں کیا۔ بلکہ آپ نے رو ایک بار اس کے شعر سنے تو آپ نے اس کے لیے رحمت اللہ فرمایا۔ اور جس کو آپ یہ فرمایا کرتے تھے وہ شہید ہو جایا کرتا تھا۔ غرض اس طرح پر اگر وہ فسق و فجور کے گیت نہ ہوں تو منع نہیں ۔ مگر مردوں کو نہیں چاہیے کہ عورتوں کی ایسی مجلسوں میں بیٹھیں ۔ یہ یاد رکھو کہ جہاں ذرا بھی منہ فہ فسق و فجور کا ہو وہ منع ہے۔ ه بزہد و ورع کوش و صدق و صفا لیکن میفزائی ہر مصطفیٰ و یہ ایسی باتیں ہیں کہ انسان ان میں خود فتویٰ لے سکتا ہے جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے وہ منع ہے۔ اور پھر جو اسراف کرتا ہے وہ سخت گناہ کرتا ہے۔ اگر ریا کاری کرتا ہے تو گناہ ہے۔ غرض کوئی ایسا امر جس میں اسراف، ریا فسق، ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو اُن سے صاف وہ منع نہیں گناہ نہیں ۔ کیونکہ اصل اشیاء کی حدت ہے۔ ہر ایک کا کام نہیں کہ دین کے لیے بات کرے، پہلے خود متقی ہونا چاہیے تا کہ ع سخن کز دل برون آید نشیند لا جرم بردل