ملفوظات (جلد 3) — Page 193
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۳ جلد سوم زندہ رہتے ہیں وہ بھی مفقود العقل اور زندہ درگور ہوتے ہیں ۔ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ گھر والے مردہ کو باہر پھینک آئے ہیں اور کتوں نے اس کو کھایا اور وہ بھی طاعون سے ہلاک ہو گئے ۔ اس خوفناک مرض میں تعہد خدمت کا بھی نہیں ہو سکتا۔ بیمارداروں کو نفرت اور خوف ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ( الفرقان: ۷۸ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا منشا یہ ہے کہ جیسے تم نے میرے شعار کو چھوڑ دیا ہے میں تمہاری بھی کوئی پروا نہیں کرتا۔ تجہیز و تکفین بھی ایک شعار ہے۔ اور اب تو یہ رسم ہوگئی ہے اور اس سے بڑھ کر نہیں ۔ مثلاً آتا ہے تو اس کی غرض چادر کا لینا ہوتا ہے۔ جنازہ کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ایک لفظ آگے نہیں جاتا بلکہ وہ تو یہی سوچتا رہتا ہے کہ کچھ نمک ، دانے اور پیسے ملیں گے۔ اور پھر دیکھتا ہے کہ مردہ کے کپڑوں سے کوئی حصہ ملے گا۔ غرض وہ تو مال تک بھی پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ اپنے حقوق ہی جتاتے رہتے ہیں۔ حضرت اقدس یہاں تک بیان کر چکے تھے کہ ایک تار آ گیا۔ یہ تار جماعت ایک کنبہ ہے رہے مولوی غلام علی صاحب رہتا سی سی کی طرف سے تھا کہ میں بیمار ہو گیا ہوں ۔ میرے لیے ڈولی نہ بھیجو۔ کچھ عرصہ تک حضرت مولوی صاحب کی بیماری کا ذکر کرتے رہے اور حالات پوچھتے رہے۔ پھر فرمایا کہ ہماری جماعت جواب ایک لاکھ تک پہنچی ہے۔ سب آپس میں بھائی ہیں۔ اس لیے اتنے بڑے کنبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی نہ کوئی دردناک آواز نہ آتی ہو۔ جو گزر گئے وہ بھی بڑے ہی مخلص تھے۔ جیسے ڈاکٹر بوڑے خاں ، سید خصیلت علی شاہ، ایوب بیگ منشی جلال الدین۔ خدا ان سب پر رحم کرے۔ طاعون بھی ایک طرح اچھی ہی ہے کیونکہ یہ غفلت طاعون بیدار کرنے کا ذریعہ ہے سے بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر یہ سرپر نہ ہو تو اس زمانہ میں شاید خوف ہی نہ رہے۔ بڑے بڑے موذی طبع مفسد لوگوں کو بھی دیکھا ہے کہ جہاں ہیضہ زور سے پڑتا ہے تو ان کے بھی خون خشک ہو گئے ہیں اور اپنے اپنے طور پر ڈر گئے ہیں۔ بعض دانش مند