ملفوظات (جلد 3) — Page 182
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۲ جلد سوم ہیں اور ایسا زور اور دباؤ آ کر پڑتا ہے کہ آخر وہ کام ہو ہی جاتا ہے۔ بڑے بڑے راجے مہاراجے جو بعض اوقات مسلمان ہوئے ۔ خدا تعالیٰ کی مرضی اسی طرح پر تھی ۔ چاروں طرف سے ایسا زور آ کر پڑا کہ بجز اسلام کے چارہ نہ رہا۔ مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ مختلف مذہب کے خدا کی مہلت سے فائدہ اٹھانا چاہیے لوگ کیا جمع نہیں ہو سکتے۔ سنہ اللہ کا نہ سجھنا نه بھی ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ بعض وقت بلا کو ہم ٹلا دیتے ہیں تو انسان بیباک ہو کر کہتا ہے کہ بلائل گئی اور پھر شوخیاں کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ پکڑتا ہے اور سخت پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔ پس اگر طاعون کم ہو جاوے تو اس سے دلیر نہیں ہونا چاہیے ۔ خدا تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ کی مسیح موعود کے وقت میں وبا کا پھیلنا عیسائیوں اور مسلمانوں کے نزدیک تو مسلّم ہی ہے۔ ہندو بھی مانتے ہیں کہ آخری دنوں میں ایک وبا ہوگی اور اس وقت آنے والے کا نام روڈ رگو پال ہوگا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام فرقوں میں جیسے آخری دنوں میں ایک موعود کے آنے کا عقیدہ مشترک ہے ویسے ہی یہ بھی مانا گیا ہے کہ اس وقت و با پڑے گی۔ پس دعاؤں سے کام لینا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے حضور استغفار کرنا چاہیے۔ کیونکہ آداب دعا خدا تعالی غنی بے نیاز ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔ ایک شخص اگر عاجزی اور فروتنی سے اس کے حضور نہیں آتا وہ اس کی کیا پر وا کر سکتا ہے۔ دیکھو! اگر ایک سائل کسی کے پاس آجاوے اور اپنا عجز اور غربت ظاہر کرے تو ضرور ہے کہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ سلوک ہو۔ لیکن ایک شخص جو گھوڑے پر سوار ہو کر آوے اور سوال کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر نہ دو گے تو ڈنڈے ماروں گا ۔ تو بجز اس کے کہ خود اس کو ڈنڈے پڑیں اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا ۔ خدا تعالیٰ سے اڑ کر مانگنا اور اپنے ایمان کو مشروط کرنا بڑی بھاری غلطی اور ٹھوکر کا موجب ہے۔ دعاؤں ا میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اڑ کر مانگنا اور بات ہے۔ یہ کہنا کہ میرا فلاں کام اگر نہ ہوا