ملفوظات (جلد 3) — Page 180
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۰ جلد سوم قرآن شریف نے جو کہا ہے أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ ( البقرۃ : ۱۸۷) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا جواب ملتا ہے۔ پس وید کی دعائیں بے ثمر ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ملتا ہے بلکہ ساری دعا ئیں الٹی ہی پڑتی رہی ہیں ۔ مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ آج میں مسیح کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر تعبیر الرویا پڑھ رہا تھا۔ ایک مقام پر مجھے بہت ہی لطف آیا لکھا ہے کہ اگر کوئی حضرت عیسیٰ کو خواب میں دیکھے تو وہ دلالت کرتا ہے کہ نقل مکان کرے گا۔ (ایڈیٹر علم تعبیر الرویا کی رو سے یہ کیسا عجیب استدلال ہے اس امر پر کہ مسیح اپنے ملک سے کشمیر میں ضرور آئے ۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن اور حدیث ان کی مؤید ہوں ۔ ) مفتی محمد صادق صاحب آج کل ایک کتاب سنا رہے ہیں جو داستان مسیح کہنی چاہیے۔ اس میں واقعات صلیب کو نہایت خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے ۔ اور ان اسرار کا اس سے پتہ لگتا ہے جو مسیح کے صلیب پر سے زندہ اُتار لیے جانے کے مؤید ہیں ۔ مفتی صاحب نے عرض کی کہ حضور میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ ایک مقام پر لکھا ہے کہ جب مسیح کو صلیب پر چڑھانے کا حکم ہو چکا اور پیلاطوس اور اس کی بیوی کے چھوڑ دینے کی تدابیر میں کامیابی نہ ہوئی تو پیلاطوس کی بیوی نے کہا کہ ہمیں عملی تدابیر میں لگ جانا چاہیے اور اس کے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے بعد آندھی کا زور بڑھ گیا اور بارش کا اندیشہ ہوا ۔ اس لیے نماز عشاء ادا کر لی گئی اور لو جلسہ برخاست ہوا۔ ۲ اکتوبر ۱۹۰۲ء آج حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود سلمہ اللہ تعالیٰ کی بارات روڑ کی کو قادیان سے علی الصباح روانہ ہوئی۔ اس بارات میں حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور جناب مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب اور الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰ تا ۱۲