ملفوظات (جلد 3) — Page 165
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۵ جلد سوم عقائد اور مسائل کی ہو جو کچھ ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اس کو انہوں نے پہلے خود اچھی طرح پر سمجھ لیا ہو اور ناقص اور ادھورا علم نہ رکھتے ہوں کہ مخالفوں کے سامنے شرمندہ ہوں ۔ اور جب کسی نے کوئی اعتراض کیا تو گھبرا گئے کہ اب اس کا کیا جواب دیں۔ غرض علم صحیح ہونا ضروری ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ ایسی قوت اور شجاعت پیدا ہو کہ حق کے طالبوں کے واسطے ان میں زبان اور دل ہو۔ یعنی پوری دلیری اور شجاعت کے ساتھ بغیر کسی قسم کے خوف وہراس کے اظہار حق کے لیے بول سکیں اور حق گوئی کے لئے اُن کے دل پر نہ کسی دولتمند کا تمول یا بہادر کی شجاعت یا حاکم کی حکومت کوئی اثر پیدا نہ کر سکے۔ یہ تین چیزیں جب حاصل ہو جائیں تب ہماری جماعت کے واعظ مفید ہو سکتے ہیں ۔ یہ شجاعت اور ہمت ایک کشش پیدا کرے گی کہ جس سے دل اس سلسلہ کی طرف کھچے چلے آئیں گے مگر یہ کشش اور جذب دو چیزوں کو چاہتی ہے جن کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی ۔ اوّل پورا علم ہو۔ دوم تقویٰ ہو۔ کوئی علم بدوں تقوی کے کام نہیں دیتا ہے اور تقویٰی بدوں علم کے نہیں ہو سکتا۔ سنت اللہ یہی ہے جب انسان پورا علم حاصل کرتا ہے تو اسے حیا اور شرم بھی دامنگیر ہو جاتی ہے۔ پس ان تین باتوں میں ہمارے واعظ کامل ہونے چاہئیں ۔ اور یہ میں اس لیے چاہتا ہوں کہ اکثر ہمارے نام خطوط آتے ہیں ۔ فلاں سوال کا جواب کیا ہے؟ فلاں اعتراض کرتے ہیں اس کا کیا جواب دیں؟ اب ان خطوط کے کس قدر جواب لکھے جاویں۔ اگر خود یہ لوگ علم صحیح اور پوری واقفیت حاصل کریں اور ہماری کتابوں کو غور سے پڑھیں تو وہ ان مشکلات میں نہ رہیں ۔ ہماری یا درکھو کہ ہماری جماعت اس بات کے لیے نہیں تے جماعت کو عمل کی ضرورت ہے ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہے ہیں ۔ نرا زبان سے کہہ دیا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی جیسے بدقسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں شکر الحمد للہ۔ مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائر اللہ کی حرمت نہیں کرتے ۔ پس میں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ یہ نکمی حالت ہے خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔ اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ