ملفوظات (جلد 3) — Page 163
ملفوظات حضرت مسیح موعود جاوے یہ بالکل غلط ہے۔ ۱۶۳ جلد سوم ایک ہی صورت ہے کہ انہوں نے اپنی طبعی موت سے جان دی اور پھر دوسرے مقربوں کی طرح خدا نے ان کا رفع کر دیا۔ بغیر اس کے اور کوئی صورت ایسی نہیں جو اعتراض سے خالی ہو۔ مسیح ناصری توجہ سے سلب امراض فرماتے تھے۔ علاج کی چار صورتیں تو عام ہیں۔ دوا سے، غذا سے عمل سے، پر ہیز سے علاج کیا جاتا ہے۔ ایک پانچویں قسم بھی ہے جس سے سلب امراض ہوتا ہے، وہ توجہ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اسی توجہ سے سلب امراض کیا کرتے تھے۔ اور یہ سلپ امراض کی قوت مومن اور کافر کا امتیاز نہیں رکھتی ۔ بلکہ اس کے لئے نیک چلن ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ نبی اور عام لوگوں کی توجہ میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ نبی کی توجہ کسی نہیں ہوتی ، وہبی ہوتی ہے۔ آجکل ڈوئی جو بڑے بڑے دعوئی کرتا ہے۔ یہ بھی وہی سلب امراض ہے۔ تو جہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے سلب ذنوب بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور مسیح علیہ السلام کی توجہ میں یہ فرق ہے کہ مسیح کی توجہ سے تو سلب امراض ہوتا تھا مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے سلب ذنوب ہوتا تھا اور اس وجہ سے آپ کی قوت قدسی کمال کے درجہ پر پہنچی ہوئی تھی ۔ دعا بھی توجہ ہی کی ایک قسم ہوتی ہے۔ توجہ کا سلسلہ کڑیوں کی طرح ہوتا ہے۔ جو لوگ حکیم اور ڈاکٹر ہوتے ہیں ان کو اس فن میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔ مسیح کی توجہ چونکہ زیادہ تر سلب امراض کی طرف تھی اس لئے سلب ذنوب میں وہ کامیاب نہ ہونے کی وجہ یہی تھی کہ جو جماعت اُنہوں نے تیار کی وہ اپنی صفائی نفس اور تزکیہ باطن میں ان مدارج کو پہنچ نہ سکی جو جلیل الشان صحابہ کو ملی۔ اور یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی با اثر تھی کہ آج اس زمانہ میں بھی تیرہ سو برس کے بعد سلب ذنوب کی وہی قوت اور تاثیر رکھتی ہے جو اس وقت رکھتی تھی ۔ مسیح اس میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اللہ تعالیٰ نے وحی اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے کافر اور مومن کی رؤیا میں فرق کیونکہ اگر یہ مادہ نہ کھاہوتا تو پھر حجت پوری نہ ہوتا ہوسکتی ۔