ملفوظات (جلد 3) — Page 156
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۶ جلد سوم انہیں کیسی لذت آتی ہے؟ میں سچ کہتا ہوں کہ جیسا اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے ہم ایک لطف اور لذت اٹھا رہے ہیں آ رہے ہیں آسمان پر بھی ایک لذت ہے۔ اس لیے کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ بعض زمینی امور ایسے ہوتے ہیں کہ آسمان پر ان کی خبر دی جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی خبر دی جاتی ہے اور اس کا انتشار ہوتا ہے۔ غرض یہ بڑی عظیم الشان پیشگوئی ہے جس سے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق ہوتی ہے اُن کو حقیر سمجھنا کفر ہے۔ یہ دوسرا نشان ہے۔ ایک طرف ہماری صداقت کے لئے کیونکہ ہمارے لئے یہ نشان رکھا گیا تھا۔ دوسری طرف خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کہ آپ کی فرمائی ہوئی پیشگوئی پوری ہوئی ۔ لوگ ناواقفی اور جہالت سے اعتراض کرتے ہیں حالانکہ یہ امر بہت ہی قابلِ غور ہے۔ کیا ہم نے خود ایسے امر پیدا کر لیے ہیں کہ نمازیں جمع کی جائیں؟ پھر جب یہ امر سب خدا کی طرف سے ہیں تو پھر اعتراض کرنا ہی نری حماقت اور خبث ہے جو لوگ اس پیشگوئی پر اعتراض کرتے ہیں وہ مجھ پر نہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بلکہ خدا تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدھ مرتبہ نما ز جمع نہ ہو گی بلکہ ایک اچھی میعاد تک نماز جمع ہوتی رہے گی کیونکہ ایک آدھ مرتبہ جمع کرنے کا اتفاق تو دوسرے مسلمانوں کو بھی ہو جاتا ہے۔ پس یہ خدا کا زبردست نشان ہے جو ہماری اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ایک زبر دست گواہ ہے۔ )ح( ا۔ حیات خال ایسا ہی پھرح کی مد میں حیات خان کا مقدمہ ہے۔ بہت سے لوگ اس امر کے گواہ ہیں۔ یہاں تک کہ اکثر ہندوؤں کو بھی معلوم ہے اور میرے لڑکے فضل احمد اور سلطان احمد بھی اس میں گواہ ہیں۔ سردار حیات خان ایک دفعہ کسی مقدمہ میں معطل ہو گیا تھا۔ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم نے مجھے کہا کہ ان کے لیے دعا کرو۔ میں نے دعا کی تو مجھے دکھایا گیا کہ یہ کرسی پر بیٹھا ہوا