ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 116

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١١٦ جلد سوم حضرت امام حسین کی فضیلت کے دلائل یا دعاوی جو سید علی مخلوق پرست دانش مند کہاں! حائری نے بیان کیے ہیں۔ ان کے تذکرے پرحضرت اقدس نے ایک موقع پر فرمایا کہ مخلوق پرست کبھی دانش مند نہیں ہو سکتے اور اب تو زمانہ بھی ایسا آگیا ہے۔ علمی تحقیقات اور له ایجادوں نے خود دلوں پر ایک اثر کیا ہے اور لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ یہ خیالی امور ہیں ۔ اے ۱۱ اگست ۱۹۰۲ء ( بوقت سیر ) ایک قریشی صاحب کئی روز سے بیمار ہو کر دار الامان میں حضرت حکیم الامت کے علاج کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے متعدد مرتبہ حضرت حجتہ اللہ کے حضور دعا کے لیے التجا کی۔ آپ نے فرمایا۔ ہم دعا کریں گے۔ ۱۰ را گست کی شام کو اس نے بذریعہ حضرت حکیم الامت التماس کی کہ میں حضور مسیح موعود تیمار داری کی زیارت کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہوں مگر پاؤں کے متورم ہونے کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتا۔ حضرت نے خود اا راگست کو اُن کے مکان پر جا کر دیکھنے کا وعدہ فرمایا چنانچہ وعدہ کے ایفا کے لیے آپ سیر کو نکلتے ہی خدام کے حلقہ میں اس مکان پر پہنچے جہاں وہ فروکش تھے۔ آپ کچھ دیر تک مرض کے عام حالات دریافت فرماتے رہے۔ زاں بعد بطور تبلیغ فرمایا کہ میں نے دعا کی ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ نری دعا ئیں کچھ نہیں کر سکتی قبولیت دعا کی شرط ہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی اور آمر نہ ہو۔ دیکھو! اہل حاجت لوگوں کو کس قدر تکالیف ہوتی ہیں مگر حاکم کے ذرا کہہ دینے اور توجہ کرنے سے وہ دور ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے امر سے سب کچھ ہوتا ہے۔ میں دعا کی قبولیت کو اس وقت محسوس کرتا ہوں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر اور اذن ہو کیونکہ اس نے اُدْعُونِی تو کہا ہے مگر اسْتَجِبْ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۷ ۱ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۶