ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 94

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۴ جلد سوم چیز ہے جو موت کو بھی آسان کر دیتا ہے۔ اسی لیے شہادت کی موت سہل اور آسان ہے ۔ اگر ایک پکے مسلمان کو قتل کی دھمکی دی جاوے تو وہ قتل اس کو سہل معلوم ہوگا۔ یقین ایک روحانی مسکن ہے۔ شہادت کی موت والا دنیا اور طولِ امل کو طاق پر رکھ دیتا ہے۔ غرض انسان کو یقین حاصل کرنا چاہیے۔ اس سے ۔ اس سے پہلے کہ وہ فلسفہ اور طبیعات میں ترقی کرے۔ اے کہ خواندی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں را هم بخواں جس نے حکمت ایمان نہیں پڑھی وہ مردہ پرست ہی رہا۔ جوں جوں انسان بڑھا ہوتا جاتا ہے دین کی طرف ہر نیادن موت کے قریب کرتا ہے بے پروائی کرتا جاتا ہے۔ یہ فس کا دھوکہ او سخت غلطی ہے جو موت کو دور سمجھتا ہے۔ موت ایک ایسا ضروری امر ہے کہ اس سے کسی صورت میں بیچ نہیں سکتے اور وہ قریب ہی قریب ہے ہر ایک نیا دن موت کے زیادہ قریب کرتا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض آدمی اوائل عمر میں بڑے نرم دل تھے۔ لیکن آخر عمر میں آکر سخت ہو گئے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ نفس دھوکہ دیتا ہے کہ موت ابھی بہت دور ہے۔ حالانکہ بہت قریب ہے۔ موت کو قریب سمجھوتا کہ گناہوں سے بچو۔ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ این در گهر مادر گه نومیدی نیست انسان اگر سچے دل سے اخلاص لے کر رجوع کرے تو وہ غفور رحیم ہے اور تو بہ کو قبول کرنے والا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس کس گنہگار کو بخشے گا خدا تعالیٰ کے حضور سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ اس کی رحمت کے خزانے وسیع اور لا انتہا ہیں ۔ اس کے حضور کوئی کمی نہیں ۔ اس کے دروازے کسی پر بند نہیں ہوتے ۔ انگریزوں کی نوکریوں کی طرح نہیں کہ اتنے تعلیم یافتہ کو کہاں سے نوکریاں ملیں ۔ خدا کے حضور جس قدر پہنچیں گے سب اعلیٰ مدارج پائیں گے۔ یہ یقینی وعدہ ہے ۔ وہ انسان بڑا ہی بد قسمت اور بد بخت ہے جو خدا تعالیٰ سے مایوس ہو اور اس کی نزع