ملفوظات (جلد 2) — Page 81
ملفوظات حضرت مسیح موعود M جلد دوم خدا فرماتا ہے کہ مومن کے ہاتھ بے جا طور پر اعتدال سے نہیں بڑھتے ۔ وہ نامحرم کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس کی زبان ہو جاتا ہوں۔ اسی پر اشارہ ہے مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (النجم : ۴) اسی لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تھا اور آپ کے ہاتھ کے لئے فرمایا مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَهْى (الانفال : (۱۸) غرض نفل کے ذریعہ انسان بہت بڑا درجہ اور قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اولیاء اللہ کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے ۔ پھر مَنْ عَادَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزْتُهُ بِالْحَرْبِ جو میرے ولی کا دشمن ہو میں اس کو کہتا ہوں کہ اب میری لڑائی کے لئے طیار ہو جا۔ حدیث میں آیا ہے کہ خدا شیرنی کی طرح جس کا بچہ کوئی اٹھا لے جاوے اس پر جھپٹتا ہے۔ غرض انسان کو چاہیے کہ وہ اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ سعی کرتا رہے۔ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے کہ کب آجاوے۔ مومن کو مناسب ہے کہ وہ کبھی غافل نہ ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا ر ہے۔ لے ١٩٠٠ء کامل یقین والوں کو شیطان چھو نہیں سکتا قاضی محمد عالم صاحب سکنہ قاضی کوٹ نے اپنی بیماری کے ایام میں قاضی ضیاء الدین صاحب سکنہ قاضی کوٹ کو جو قادیان میں تھے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کرنے کو لکھا جس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔ ا میں ضرور دعا کروں گا۔ آپ محمد عالم کو تسلی دیں ۔ احمد شاہ کی طرف وہم کے طور پر بھی خیال نہ لے جاویں۔ واقعی وہ کچھ بھی نہیں۔ یہ وسوسہ شرک سمجھیں۔ عوام کا بہکانا طعن و تشنیع جتنا اثر کرے گا اسی قدر اپنے راستہ کو خالی تصور کریں۔ کامل یقین والوں کو شیطان چھو بھی نہیں سکتا۔ میرا تو یقین ہے کہ حضرت آدم کی استعداد میں کسی قدر تساہل تھا تب ہی تو شیطان کو وسوسہ کا قابومل گیا۔ واللہ اگر اس جگہ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۲ تا ۴