ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 78

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۸ جلد دوم کرتا تا ہے۔ اسی طرح اس کا حق ہے کہ یہ خدا کی بھی مان لے یعنی اگر کسی دعا میں اپنے منشا اور مراد کے موافق ناکام رہے تو خدا پر بدظن نہ ہو بلکہ اپنی اس نامرادی کو کسی غلطی کا نتیجہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ کی رضا پر انشراح صدر کے ساتھ راضی ہو جاوے اور سمجھ لے کہ میرا مولیٰ یہی چاہتا ہے۔ مومنوں کی آزمائش اس کی طرف اللہ تعالی نے اشارہ فرمایا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ الآية (البقرة : ۱۵۶) خوف سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈر ہی ڈر ہے ۔ انجام اچھا ہے۔ اسی سے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ پھر الجوع فقر وفاقہ تنگ کرتا ہے۔ بعض وقت ایک کر تہ پھٹ جاوے تو دوسرے کی توفیق نہیں ملتی ۔ جوع کا لفظ رکھ کر عطش کا لفظ چھوڑ دیا ہے کیونکہ یہ جوع میں داخل ہے۔ نَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ چور لے جاتے ہیں اور اتنا بھی نہیں چھوڑ جاتے کہ صبح کی روٹی کھا سکیں ۔ سوچو! کس قدر تکلیف اور آفت کا سامنا ہوتا ہے۔ پھر جانوں کا نقصان ہے۔ بچے مرنے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک بھی نہیں رہتا۔ جانوں کے نقصان میں یہ بات داخل ہے کہ خود تو زندہ رہے اور عزیز و متعلقین مر جاتے جاویں۔ کس قدر صدمہ ایسے وقت پر ہوتا ہے۔ ہمارا تعلق ایسے دوستوں سے اس قدر ہے کہ جس قدر دوست ہیں اور ان کے اہل و عیال ہیں گویا ہمارے ہی ہیں ۔ کسی عزیز کے جدا ہو جانے سے اس قدر رنج ہوتا ہے کہ جیسا کسی کو اپنی عزیز سے عزیز اولاد کے مرجانے کا ہوتا ہے۔ ثمرات میں اولا د بھی داخل ہے اور محنتوں کے بعد آخر کی کامیابیاں بھی مراد ہیں۔ ان کے ضائع ہونے سے بھی سخت صدمہ ہوتا ہے۔ امتحان دینے والے اگر کبھی فیل ہو جاتے ہیں تو بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ خود کشیاں کر لیتے ہیں۔ ایوب بیگ کی بیماری کی ترقی امتحان میں فیل ہو جانے سے ہی ہوئی پہلے تو اچھا خاصا تندرست تھا۔ غرض اس قسم کے ابتلا جن پر آئیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو بشارت دیتا ہے وَ بَشِّرِ الصَّبِرِينَ (البقرۃ:۱۵۶) یعنی ایسے موقع پر جہد کے ساتھ برداشت کرنے والوں کو خوشخبری اور بشارت ہے کہ جب ان کو کوئی