ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 74

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۴ جلد دوم سو اس ملک کا حال کیا ہے؟ کیا اذلہ نہیں ہیں ۔ ہندو بھی اپنی طاقت میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں ۔ کوئی ایک ذلت ہے جس میں اُن کا نمبر بڑھا ہوا ہے؟ جس قدر ذلیل سے ذلیل پیشے ہیں وہ ان میں پاؤ گے۔ ٹکڑہ گدا مسلمان ہی ملیں گے۔ جیل خانوں میں جاؤ تو جرائم پیشہ گرفتار مسلمان ہی پاؤ گے۔ شراب خانوں میں جاؤ کثرت سے مسلمان۔ اب بھی کہتے ہیں ذلت نہیں ہوئی؟ کروڑ ہا نا پاک اور گندی کتابیں اسلام کے رڈ میں تالیف کی گئیں۔ ہماری قوم میں مغل، سید کہلانے والے اور شریف کہلانے والے عیسائی ہو کر اسی زبان سے سید المعصو میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کوکو سنے لگے ۔ صفدر علی اور عمادالدین وغیرہ کون تھے؟ امہات المومنین کا مصنف کون ہے؟ جس پر اس قدر واویلا اور شور مچایا گیا اور آخر کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس پر بھی کہتے ہیں کہ ذلت نہیں ہوئی۔ کیا تم تب خوش ہوتے کہ اسلام کا اتنار ہا سہا نام بھی باقی نہ رہتا، تب محسوس کرتے کہ ہاں اب ذلت ہوئی ہے!!! آہ! میں تم کو کیوں کر دکھاؤں جو اسلام کی حالت ہو رہی ہے۔ دیکھو! میں پھر کھول کر کہتا ہوں کہ یہی بدر کا زمانہ ہے۔ اسلام پر ذلت کا وقت آچکا ہے مگر اب خدا نے چاہا ہے کہ اس کی نصرت کرے۔ ا چنانچہ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کو براہین اور حج ساطعہ کے ساتھ تمام ملتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھا دوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مبارک زمانہ میں چاہا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ اب کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ جس طرح پہلے صحابہؓ کے زمانہ میں چاروں صفات کی ایک خاص تجلی ظاہر ہوئی تھی اب پھر وہی زمانہ ہے اور ربوبیت کا وقت آیا ہے۔ نادان مخالف چاہتے ہیں کہ بچہ کو الگ کر دیں مگر خدا کی ربوبیت نہیں چاہتی۔ بارش کی طرح اس کی رحمت برس رہی ہے۔ یہ مولوی حامی دین چاہتی۔ بارش کی طرح اس کی رحمت ہے ا نے والے مخالفت کر کے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں ۔ مگر یہ نور پورا ہو کر رہے گا اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے۔ یہ خوش ہوتے ہیں اور تسلیم کر لیتے ہیں جب پادری اٹھ اٹھ کر کہتے ہیں کہ تمہارا نبی مر گیا اور زندہ نبی مسیح ہی ہے اور مس شیطان سے مسیح ہی بچا ہوا ہے اور مسیح نے مردوں کو زندہ کیا۔ یہ بھی تائید کر کے کہہ دیتے ہیں کہ ہاں چڑیاں بنایا کرتے تھے۔ ایک شخص موحد میرے پاس آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مسیح جو چڑیاں بنایا کرتے تھے اب تو وہ بہت ہو گئی کہلانے