ملفوظات (جلد 2) — Page 72
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۲ جلد دوم نبی کریم کی قوت قدسی کا ثبوت یہ ہمارے نبی کریم صل اللہ علیہ سلم کی قوت قدی قوت کے کامل اور سب سے بڑھ کر ہونے کا ایک اور ثبوت ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ گروہ میں وہ استقلال اور رسوخ تھا کہ وہ آپ کے لئے اپنی جان ، مال تک دینے سے دریغ نہ کرنے والے میدان میں ثابت ہوئے اور مسیح کے نقص کا یہ بدیہی ثبوت ہے کہ جو جماعت طیار کی وہی گرفتار کرانے اور جان سے مروانے اور لعنت کرنے والے ثابت ہوئے ۔ غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیمیت کا اثر تھا کہ صحابہ میں ثبات قدم اور استقلال تھا۔ پھر ملِكِ يَوْمِ الدین کا عملی ظہور صحابہ کی زندگی میں یہ ہوا کہ خدا نے اُن میں اور اُن کے غیروں میں فرقان رکھ دیا یا جو معرفت اور خدا کی محبت دنیا میں اُن کو دی گئی یہ اُن کی دنیا میں جزا تھی ۔ اب قصہ کوتاہ کرتا ہوں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان صفات اربعہ کی تجلی چمکی ۔ مسیح موعود کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی لیکن بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔ وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہے جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے۔ چنانچہ فرمایا ہے وَ آخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ( الجمعة : (۴) یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی ۔ اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔ منھم کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہ ہی کی طرح ہوگا۔ صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تربیت کے نیچے ہوں گے۔ اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے جیسے ان صفات اربعہ کا ظہور اُن صحابہ میں ہوا تھا ویسے ہی ضروری ہے کہ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : (۴) کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔ اب دیکھو کہ صحابہ کو بدر میں نصرت دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گئی جبکہ تم تھوڑے تھے۔ اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہو گیا۔