ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 61

ملفوظات حضرت مسیح موعود ٦١ جلد دوم آسکتا ہے جب تک اللہ کی طرف بلانے والے میں عظیم الشان قوت جذب کی نہ ہو کہ بے ان اختیار ہو ہو کر دل اس طرف کھیچ آئیں اور وہ تمام تکالیا اور وہ تمام تکلیفیں اور بلائیں ان کے لئے محسوس اللہ ات او مدرک الحلاوت ہو جاویں ۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کی طرف غور کرو تو پھر کیسا روشن طور پر معلوم ہوگا کہ آپ ہی اس قابل تھے کہ محمد نام سے موسوم ہوتے اور اس دعوی کو جیسا ما کہ کہ زبان زبان ۔ سے کیا گیا تھا کہ اِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اپنے عمل سے بھی کر کے دکھاتے ۔ چنانچہ وہ وقت آگیا کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ افواجا (النصر : ۲ ، ۳) اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میں آئے جب دین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور گئے اس وقت کہ جبکہ اس نظارہ کو دیکھ لیا کہ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا جب تک اس کو پورا نہ کر لیا نہ تھکے نہ ماندہ ہوئے ۔ مخالفوں کی مخالفتیں ،اعدا کی سازشیں اور منصوبے تقتل کرنے کے مشورے، قوم کی تکلیفیں آپ کے حوصلہ اور ہمت کے سامنے سب پیچ اور بے کار تھیں اور کوئی چیز ایسی نہ تھی جو اپنے کام سے ایک لمحہ کے لئے بھی روک سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وقت تک زندہ رکھا جب تک کہ آپ نے وہ کام نہ کر لیا جس کے واسطے آئے تھے۔ یہ بھی ایک ستر ہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے جھوٹوں کی طرح نہیں آتے۔ اسی طرح پر آپ کے صدق نبوت پر آپ کی زندگی سب سے بڑا نشان ہے۔ کوئی ہے جو اس پر نظر کرے! آپ کو دنیا میں ایسے وقت پر بھیجا کہ دنیا میں تاریکی چھائی ہوئی تھی اور اس وقت تک کو زندہ رکھا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدۃ: کی ۴) آواز آپ کو نہ آ آگئی اور فوجوں کی فوجیں اسلام میں داخل ہوتی ہوئیں آپ نے نہ دیکھ لیں ۔ غرض اسی قسم کی بہت سی وجوہ ہیں جن سے آپ کا نام محمد رکھا گیا۔ حمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ کا ایک اور نام بھ رکھا گیا وہ احمد ہے۔ چنانچہ حضرت میں نے اسی نام کی پیشگوئی کی تھی مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي