ملفوظات (جلد 2) — Page 57
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۷ جلد دوم عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب: ۵۷) ۔ ادھر ہندوؤں نے ۳۳ کروڑ دیوتاؤں کو خدا بنا رکھا تھا۔ اس وقت کی حالت سے کوئی نہیں بتلا سکتا کہ موحد فرقہ کہاں رہتا تھا۔ اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے تقاضے کا پتہ لگتا ہے کہ کیوں کر تاریکی کے وقت اس کی غیرت ہدایت کا تقاضا کرتی ہے۔ ہندو رام رام اور عیسائی رَبُّنَا الْيَسُوعُ ، رَبُّنَا الْيَسُوعُ پکارتے تھے۔ کوئی ایسا نہ تھا جو خدا کا نام لیتا۔ کروڑوں پردوں میں اللہ تعالیٰ کا جلالی اسم مخفی تھا۔ اللہ جل شانہ نے جب احسان کرنا چاہا تو محد صل اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ آپ کا نام محمد تھا جس کے معنی ہیں نہایت ہی تعریف کیا گیا جو باب تفعیل سے آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی اسی قدر قابل تعریف ٹھہرتا ہے جس قدر کام کرتا ہے۔ پہلے نبی خاص قوموں کے لئے آتے تھے اور ایک نقص یہ تھا کہ ایک عظیم الشان اصلاح کی ضرورت نہ ہوتی تھی ۔ مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام جب آئے تو وہ صرف بنی اسرائیل ہی کی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے واسطے آئے اور یہودیوں کے پاس اس وقت تو ریت موجود تھی ۔ وہی تو رات کی تعلیمات عملدرآمد کے لئے کافی سمجھی گئی تھیں اور یہودی تو رات کے احکام اور تعلیمات کے قائل اور ان پر قائم تھے۔ ہاں بعض اخلاقی کمزوریاں تھیں جوان میں پیدا ہو گئی تھیں۔ اور یہ صاف بات ہے کہ صرف اخلاقی کمزوریوں کا دور کرنا۔ ان کے نقصانات کو بتلا دینا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ایک معمولی درجہ کا آدمی بھی ایسا کر سکتا ہے اور اخلاقی واعظ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح کا نام محمد نہ رکھا گیا ۔ کیوں کہ ان کی خدمات ایسی اعلیٰ درجہ کی نہ تھیں اور اسی طرح پر موسیٰ علیہ السلام جب آئے گو وہ ایک شریعت لے کر تو آئے مگر ان کا بڑا کام بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانا ہی تھا حالانکہ وہ قوم چار سو برس کی تلخیوں اور مصیبتوں کی وجہ سے بجائے خود اس بات پر آمادہ اور طیار تھے کہ کوئی ایسی تحریک ہو تو وہاں سے نکل کھڑے ہوں ۔ مادہ طیار تھا۔ صرف ۔ تحریک اور محرک کی ضرورت تھی ۔ انسان جب کسی بیگار یا بجا مشقت میں پکڑا جاوے تو وہ خود اس سے نجات پانی چاہتا ہے اور نکلنے کی خواہش کرتا ہے۔ پس جب بنی اسرائیل فرعون کی غلامی میں پریشان