ملفوظات (جلد 2) — Page 52
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲ جلد دوم نشان بنا۔ ابوجہل نے حجت کی اور مخالفت اور جہالت سے باز نہ آیا۔ اس نے نشان پرنشان دیکھے مگر دیکھ نہ سکا۔ آخر خود دوسروں کے لئے نشان ہو کر مخالفت ہی میں ہلاک ہوا۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ جن کی فطرت میں نور ایمان ہے انہیں زیادہ گوئی کی ضرورت نہیں ۔ وہ ایک ہی بات سے مطلب پر پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے دل میں ایک روشنی ہوتی ہے۔ وہ معاً آواز کے سنتے ہی منور ہو جاتے ہیں اور وہ الہی قوت جو اُن کے اندر ہوتی ہے اس آواز کو سن کر جوش میں آجاتی ہے اور نشو و نما پاتی ہے۔ جن میں یہ قوت نہیں رہتی وہ محروم رہ کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہی طریق شروع سے چلا آیا ہے۔ اب ہر شخص کو خوف کرنا چاہیے کہ اگر کسی زمانہ میں اصلاح کے لئے مامور پیدا ہوتا ہے تو جولوگ اپنے اندر اس مامور کے لئے قبولیت اور ایمان کا رنگ پاتے ہیں ، وہ مبارک ہیں۔ لیکن جو اپنے دل میں قبض پاتا ہے اور دل ماننے کی طرف رجوع نہیں کرتا اس کو ڈرنا چاہیے کہ یہ انجام بد کے آثار ہیں اور محرومی کے اسباب ۔ یقیناً سمجھ لو اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ جو حق کے قرائن و دلائل دیکھ کر نہیں مانتا اور حسن ظن اور صبر سے کام نہیں لیتا اور تلاش رد میں رہتا ہے۔ عمدہ سے عمدہ نشان اور قوی سے قوی دلائل اس کے پاس جاتے ہیں مگر وہ ان کو دیکھ کر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ رد کی فکر میں لگ جاتا ہے تو اس کو ڈرنا چاہیے کہ یہ اشقیا والی عادت ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے اس جماعت نے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیام سنا اور مامور من اللہ کی آواز ان کے کان میں پہنچی وہ مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور فکر معکوس اور بخل و بے جا عداوت کی وجہ سے اس کی تردید کی فکر میں لگ گئے ۔ پھر اسی پر بس نہیں کی۔ انسان چونکہ ترقی کرتا ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی ۔ آخر بڑے بڑے مقابلوں اور ناپاک منصوبوں تک نوبت پہنچ کر ہلاکت کی گھڑی آجاتی ہے۔ ایسا ہی حال پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا ۔ ایک گروہ نے ایمان میں وہ ترقی کی کہ بکریوں کی طرح خدا کے حکم پاکر ذبح ہو گئے اور کچھ پروا نہیں کی کہ بیوی بچوں کا کیا حال ہوگا ۔ ان کو کچھ ایسی شراب محبت پلائی کہ لا پروا ہو کر جانیں دے دیں۔ یہ تصرف اس نظارہ کے وقت معلوم ہوتا