ملفوظات (جلد 2) — Page 49
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹ جلد دوم والی دلیل تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کس قدر عظیم الشان معجزہ ہے کہ ہر طرف سے مخالفت ہوتی تھی مگر آپ ہر میدان میں کامیاب ہی ۔ ب ہی ہوتے تھے۔ صحابہ کے لئے یہ کیسی دل خوش کرنے والی جب وہ اس نظارہ کو دیکھتے تھے۔ اسلام کیا ہے؟ بہت سی جانوں کا چندہ ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد چندہ ہی میں آئے۔ اب اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ وہ اسلام کو کل ملتوں پر غالب کرے۔ اس نے مجھے اسی مطلب کے لئے بھیجا ہے اور اسی طرح بھیجا ہے جس طرح پہلے مامور آتے رہے۔ پس آپ میری مخالفت میں بھی بہت سی باتیں سنیں گے اور بہت قسم کے منصوبے پائیں گے۔ لیکن میں آپ کو نصیحتا اللہ کہتا ہوں کہ آپ سوچیں اور غور کریں کہ یہ مخالفتیں مجھے تھکا سکتی ہیں یا ان کا کچھ بھی اثر مجھ پر ہوا ہے؟ ہرگز نہیں۔ خدا تعالیٰ کا پوشیدہ ہاتھ ہے جو میرے ساتھ کام کرتا ہے ورنہ میں کیا اور میری ہستی کیا؟ مجھے شہرت طلب کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس فرض کے ادا کرنے میں مجھے کس قدر گالیاں سننی پڑی ہیں مگر ان گالیوں کی جو دیتے ہیں اور ان تکلیفوں کی جو پہنچاتے ہیں ایک لحظہ کے لئے بھی پروا یا خیال نہیں کرتا اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہوتا۔ میرا خدا میرے ساتھ ہے اور اگر میں خدا کی طرف سے آیا نہ ہوتا تو میری یہ مخالفت بھی ہرگز نہ ہوتی ۔ آپ کا اس قدر دور دراز کا سفر اختیار کر کے اور پھر تکالیف راہ برداشت کر کے آنا اللہ تعالیٰ کے حضور ایک اجر رکھتا ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور توفیق دے کہ آپ اس سلسلہ کی طرف توجہ کر سکیں جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ آمین ۔ ۲۸ دسمبر ۱۹۰۰ء از جمعہ عام مجمع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مفصلہ ذیل سعید اور شقی تقریر فرمائی ۔ دیکھو! میں محض اللہ مختصر طور پر چند باتیں سناتا ہوں۔ میری طبیعت اچھی نہیں اور زیادہ باتوں الحکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۲ تا ۶