ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 521 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 521

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲۱ جلد دوم دراز ہے۔ آپؐ کی رسالت مردہ رسالت نہیں بلکہ اس کے ثمرات اور برکات تازہ بتازہ ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں جو اس کی صداقت اور ثبوت کی ہر زمانہ میں دلیل ٹھہرتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت بھی خدا نے ان ثبوتوں اور برکات اور فیوض کو جاری کیا ہے اور مسیح موعود کو بھیج کر نبوت محمدیہ کا ثبوت آج بھی دیا ہے اور پھر اُس کی دعوت ایسی عام ہے کہ کل دنیا کے لیے ہے قل يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا ( الاعراف : ۱۵۹) اور پھر فرمایا وَ مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) کتاب دی تو ایسی کامل اور ایسی محکم اور یقینی کہ لا رَيْبَ فِيهِ (البقرة : (۳) اور فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ ( البيئة : (۴) اور ایتٌ مُحْكَمْتُ قَوْلُ فَصْلٌ - ميزان - مهیمن ۔ غرض ہر طرح سے کامل اور مکمل دین مسلمانوں کا ہے جس کے لیے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : (۴) (۴) کی مہر لگ چکی ہے۔ پھر کس قدر افسوس ہے مسلمانوں پر کہ وہ ایسا کامل دین جو رضاء الہی کا موجب اور باعث ہے رکھ کر بھی بے نصیب ہیں اور اس دین کے برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں لیتے بلکہ خدا تعالیٰ نے جو ایک سلسلہ ان برکات کو زندہ کرنے کے لیے قائم کیا تو اکثر انکار کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے اور لَسْتَ مُرْسَلا اور لَسْتَ مُؤْمِنًا کی آوازیں بلند کرنے لگے۔ یا د رکھو خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار محض ان برکات کو جذب نہیں کر سکتا جو اس اقرار اور اُس کے طوخدا دوسرے لوازمات یعنی اعمال صالحہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ توحید اعلیٰ درجہ کی جز ہے جو ایک سچے مسلمان اور ہر خدا ترس انسان کو اختیار کرنی چاہیے مگر تو حید کی تکمیل کے لیے ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ محبت الہی ہے یعنی خدا سے محبت کرنا۔ قرآن شریف کی تعلیم کا اصل مقصد اور مدعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جیسا وحدہ لاشریک ہے ایسا ہی محبت کی رو سے بھی اس کو وحدہ لاشریک یقین کیا جاوے اور کل انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کا اصل منشا ہمیشہ یہی رہا ہے چنانچہ لا الہ الا اللہ جیسے ایک طرف توحید کی تعلیم دیتا ہے ساتھ ہی تو حید کی تکمیل محبت کی ہدایت بھی کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے یہ ایک ایسا پیارا اور پر معنی جملہ ہے کہ اس کی