ملفوظات (جلد 2) — Page 494
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۴ جلد دوم مسیح اگر انہیں درست بھی کر دیتے تب بھی یہ کوئی بڑی قابل تعریف بات نہ تھی کیونکہ ایک طبیب کے کامل علاج کے بعد اگر دوسرا کوئی اچھا کر دے تو یہ خوبی کی بات نہیں ۔ اس لیے بفرض محال اگر مسیح نے کوئی فائدہ پہنچایا بھی ہو تو بھی یہ کوئی قابل تعریف بات نہیں ہے لیکن افسوس ہے کہ یہاں کسی فائدہ کی نظیر بھی نظر نہیں آتی۔ یہودا نے ۳۰ روپیہ لے کر اُستاد کو بیچ لیا اور پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر لعنت کی اور دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے اُحد اور بدر میں آپ کے سامنے سر دے دیئے۔ اب انصاف کا مقام ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ آئے ہوتے اور قرآن شریف نہ ہوتا تو ایسے نبی کی بابت کیا کہتے جس کی تعلیم اور قوت قدسی کے نمونے یہودا اسکر یوطی اور پطرس ہیں۔ قوت قدسی کا یہ حال اور تعلیم ایسی اُدھوری اور ناقص کہ کوئی دانش مندا سے کامل نہیں کہہ سکتا اور نہ صرف یہی بلکہ انسان کی تمدنی ، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اُس سے کوئی تعلق ہی نہیں اور پھر لطف یہ کہ اُس کے کوئی تاثیرات باقی نہیں ہیں۔ دعوی ایسا کیا کہ عقل، کانشنس، قانون قدرت اور متقدمین کے عقائد اور مسلمات کے صریح خلاف۔ ان انگریز مصنفوں کو اقرار کرنا پڑا ہے کہ اگر قرآن نہ آتا تو بہت بری حالت ہوتی۔ اُنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں ، وحشیوں کو درست کیا اور پھر ایسے صادق اور وفادار لوگ تیار کیسے کہ اُنہوں نے اس کی رفاقت میں کبھی اپنے جان و مال کی بھی پروانہیں کی۔ اس قسم کی وفاداری اور اطاعت، ایثار اور جا شاری پیدا نہیں ہو سکتی جب تک مقتدا اور متبوع میں اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی اور جذب نہ ہو۔ پھر لکھتا ہے کہ عربوں کو سچی راست بازی ہی نہ سکھائی گئی تھی بلکہ ان کی دماغی قوتوں کی بھی تربیت کی تھی۔ حواری تو ایک گاؤں کا بھی انتظام نہ کر سکتے تھے مگر صحابہ نے دنیا کا انتظام کر کے دکھا دیا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے والدین نے حکومت اور سلطنت کی تھی اور اس لیے وہ انتظام ملک داری اور قوانین سیاست سے آگاہ تھے؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت اور قرآن شریف کی کامل تعلیم کا نتیجہ تھا کہ ایک طرف اُس