ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 489

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٥٧ جلد دوم کہ یہاں ہی مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں۔ حشر نشر کوئی چیز نہیں۔ قیامت کچھ نہیں ۔ جنت کیا اور جہنم کیا؟ قرآن شریف کے احکام جن بدیوں اور برائیوں سے روکتے ہیں وہ سب مجموعی طور ۔ طور پر ان میں موجود تھیں ۔ ان کی حالت کا یہ نقشہ ہے جس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کیا تھے؟ ایک موقع پر فرماتا ہے يَتَمَتَّعُونَ وَ يَأْكُلُونَ ( محمد : (۱۳) کھاتے اور تمتع اُٹھاتے ہیں یعنی اپنے پیٹ کی اور دوسری شہوات میں مبتلا اور اسیر ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جب انسان جذبات نفس اور دیگر شہوات میں اسیر اور مبتلا ہو جاتا ہے تو چونکہ وہ طبعی تقاضوں کو اخلاقی حالت میں نہیں لاتا اس لیے ان شہوات کی غلامی اور گرفتاری ہی اس کے لیے جہنم ہو جاتی ہے اور اُن ضرورتوں کے حصول میں مشکلات کا پیش آنا اس پر ایک خطرناک عذاب کی صورت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ جس حال میں ہیں گویا جہنم میں مبتلا ہیں ۔ قرآن مجید قصوں کا مجموعہ نہیں یہ بات ہرگز ہرگز بھول جانے کے قابل نہیں ہے کہ قرآن شریف جو خاتم الکتب ہے دراصل قصوں کا مجموعہ نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اپنی غلط فہمی اور حق پوشی کی بنا پر قرآن شریف کو قصوں کا مجموعہ کہا ہے۔ اُنہوں نے حقائق شناس فطرت سے حصہ نہیں پایا ورنہ اس پاک کتاب نے تو پہلے قصوں کو بھی ایک فلسفہ بنادیا ہے اور یہ اس کا احسانِ عظیم ہے ساری کتابوں اور نبیوں پر۔ ورنہ آج ان باتوں پر ہنسی کی جاتی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس علمی زمانہ میں جبکہ موجودات عالم کے حقائق اور خواص الاشیاء کے علوم ترقی کر رہے ہیں اس نے آسمانی علوم اور کشف حقائق کے لیے ایک سلسلہ کو قائم کیا۔ جس نے ان تمام باتوں کو جو فیج اعوج کے زمانہ میں ایک معمولی قصوں سے بڑھ کر وقعت نہ رکھتی تھی اور اس سائنس کے زمانہ میں اُن پر ہنسی ہو رہی تھی علمی پیرا یہ میں ایک فلسفہ کی صورت میں پیش کیا۔ بہشت اور دوزخ کی حقیقت پہلے زمان میں ہم دیکھتے ہیں کہ بال خیالی اور سادہ طور پر بهشت و دوزخ کو رکھا گیا تھا۔ حضرت مسیح نے پھانسی پانے والے چور کو یہ تو کہہ دیا کہ آج ہم بہشت میں جائیں گے مگر بہشت کی حقیقت پر کوئی نکتہ بیان نہ فرمایا۔