ملفوظات (جلد 2) — Page 481
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ۱۷ جلد دوم ہے نہ صرف آپ قبول کرے بلکہ اس پر عمل کر کے اس کے چپکتے ہوئے نتائج اور خواص کو اپنے اندر رکھتا ہو۔ جب تک انسان خودسچا ایمان ان امور پر جو وہ بیان کرتا ہے نہیں رکھتا اور سچے ایمان کے اثر یعنی اعمال سے نہیں دکھاتا وہ ہرگز ہرگز موثر اور مفید نہیں ہوتے ۔ وہ باتیں صرف بد بودار ہونٹوں سے نکلتی ہیں جو دوسروں کے کان تک پہنچنے میں اور بھی بد بودار ہو جاتی ہیں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ ظالم و سفاک حق کا یوں بھی خون کرتے ہیں کہ چونکہ اس کے برکات اور درخشاں ثمرات اُن کے ساتھ نہیں ہوتے اس لئے سننے والے محض خیالی اور فرضی باتیں سمجھ کر ان کی پروا بھی نہیں کرتے اور یوں دوسروں کو محروم کر دیتے ہیں ۔ غرض یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی اصلاح اور بہتری کا مدعی ہے جب تک اپنے ساتھ حق اور کشش نہ رکھتا ہو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور وہ لوگ جو توجہ اور غور سے اس کی بات کو نہیں سنتے وہ ان سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا جو کشش اور حق بھی رکھتے ہوں ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ رات کے بعد دن اور دن روحانی رات اور دن کے بعد رات آتی ہے اور اس قانون قدرت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ۔ اسی طرح دنیا پر اس قسم کے زمانے آتے رہتے ہیں کہ کبھی روحانی طور پر رات ہوتی ہے اور کبھی طلوع آفتاب ہو کر نیا دن چڑھتا ہے چنانچہ پچھلا ایک ہزار جو گزرا ہے، روحانی طور پر ایک تاریک رات تھی جس کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیج اعوج رکھا ہے ۔ خدا تعالیٰ کا یہ ایک دن ہے جیسا کہ فرماتا ہے إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الحج: ۴۸) اس ہزار سال میں دنیا پر ایک خطر ناک ظلمت کی چادر چھائی ہوئی تھی۔ جس میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو ایک نا پاک کیچڑ میں ڈالنے کے لیے پوری تدبیروں اور مکاریوں اور حیلہ جوئیوں سے کام لیا گیا ہے اور خود ان لوگوں میں ہر قسم کے شرک اور بدعات ہو گئے جو مسلمان کہلاتے تھے مگر اس گروہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا لیسو امنِي وَلَسْتُ مِنْهُمْ یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں اُن سے ہوں ۔ غرض جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ ہزار سالہ رات تھی جو گزرگئی ۔ اب