ملفوظات (جلد 2) — Page 478
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۸ جلد دوم میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں تو اپنے دشمن کا بھی سب سے بڑھ کر خیر خواہ ہوں۔ کوئی میری باتوں کو سنے بھی ۔ یہ جو کچھ میں نے کہا ہے آپ اس پر غور کریں اور اس پر جو کچھ باقی رہ جاوے اُسے بیان کریں۔ حضرت اقدس نے اپنی تقریر کو اس مقام پر ختم کر دیا تھا کہ خاکسارایڈیٹر الحکم نے عرض کی کہ مسٹر عبد الحق صاحب نے اپنی تقریر میں عماد الدین کے حوالہ سے ایک بات تثلیث کے ثبوت میں کہی ہے کہ وضو کرتے وقت تین دفعہ ہاتھ دھوتے ہیں۔ یہ تثلیث کا نشان ہے۔ اس پر بھی کچھ فرمادیا جاوے۔ فرمایا۔ کا یہ تو بالکل بے ہودہ اور کچی باتیں ہیں۔ اس طرح پر ثبوت دینا چا ہو تو جتنے مرضی ہیں خدا بنالو۔ عماد الدین کی ان باتوں پر پادری رجب علی نے ایک ریویو لکھا تھا اور اس نے بڑا واویلا کیا تھا کہ ایسی باتوں سے عیسائیت کی تو ہین ہوتی ہے چونکہ وہ کچھ ظریف طبع تھا کہ عماد الدین سے تثلیث کے وہ ثبوت میں یہ بات رہ گئی اور پھر ایک ایسی مثال دی جو قابلِ ذکر نہیں ۔ وو اس نے لکھا کہ عماد الدین بالکل ایک جاہل آدمی تھا۔ میں نے اُس کو اردو کی عبارت کا مطلب بیان کرنے ہی کی دعوت کی تھی جس کا جواب نہ دے سکا۔ اور نور الحق کا جواب آج تک نہ ہوا۔ حالانکہ پانچ ہزار روپیہ انعام بھی تھا۔ ایسی باتیں تو پیش کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ دیکھو! آخر مرنا ہے۔ خدا سے ڈرنا چاہیے۔ دین کے معاملہ میں بڑی غور وفکر درکار ہے اور پھر خدا کا فضل ۔ الحکم جلد ۶ نمبرے مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۳ تا ۵