ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 462

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۲ جلد دوم ہوسکتی ہے۔ تسلی پانے کے لیے اور زندہ خدا کو دیکھنے کے لیے ہمیشہ روح میں ایک تڑپ اور پیاس ہے اور اس کی تسلی آسمانی تائیدوں اور نشانوں کے بغیر ممکن نہیں اور میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ عیسائیوں میں یہ نور اور زندگی نہیں ہے بلکہ یہ حق اور زندگی میرے پاس ہے۔ میں ۲۶ برس سے اشتہار دے رہا ہوں اور تعجب کی بات ہے کہ کوئی عیسائی پادری مقابلہ پر نہیں آتا ۔ اگر ان کے پاس نشانات ہیں تو وہ کیوں انجیل کے جلال کے لیے پیش نہیں کرتے ۔ ایک بار میں نے سولہ ۱۶ ہزار اشتہار انگریزی اُردو میں چھاپ کر تقسیم کیے جن میں سے اب بھی کچھ ہمارے دفتر میں ہوں گے۔ مگر ایک بھی نہ اُٹھا جو یسوع کی خدائی کا کرشمہ دکھاتا اور اُس بت کی حمایت کرتا۔ اصل میں وہاں کچھ ہے ہی نہیں ۔ کوئی پیش کیا کرے۔ مختصر یہ کہ حق کی شناخت کے لیے یہ تین ہی ذریعے ہیں اور عیسائی مذہب میں تینوں مفقود ہیں ۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ کو اچھا موقع مل گیا ہے اور آپ یہاں آگئے ہیں ۔ ان تقریروں کی ترتیب سے بہت فائدہ ہوگا۔ آپ ان کو خوب غور سے سن لیا کریں اور پھر جب آپ کو اس میں کچھ کلام باقی نہ ہو تو اس ا پر دستخط کر دیا کریں تا کہ ہمارا یہ وقت رائیگاں نہ جاو۔ وے اور سود مند ثابت ہو۔ سراج الدین کے لیے جو وقت ہم نے دیا اگر اس طرح پر تقریر لکھی جاتی تو ایک حجت رہتی اُس نے اپنے عمل سے دوسروں کو بھی بدظنی کا موقع دیا۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص جب ایک جگہ سچائی کو چھوڑتا ہے وہ دوسری جگہ سچائی سے کیونکر پیار کر سکتا ہے۔ مسٹر عبدالحق۔ ہاں مجھے دستخط کرنے میں کیا غذر ہو سکتا ہے اور میرا اس میں کوئی حرج نہیں ہے حضرت مسیح موعود ۔ بات یہ ہے کہ ساری جرات دل کی پاکیزگی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر دل صاف دل ہے تو اُسے کوئی بات روک نہیں سکتی ۔ مسٹر عبد الحق۔ میں نے جب یہاں آنے کا ارادہ کیا تو ایک عیسائی سے ذکر کیا تو اس نے آپ کو گالی دی اور مجھے یہ نا گوار معلوم ہوا ۔ میں نے کہا کہ یہ تو بری بات ہے گالی دینے کے کیا معنے ۔ اس نے کہا وہ ہمارا دشمن ہے۔ میں نے کہا کہ انجیل میں تو لکھا ہے کہ دشمنوں سے پیار کرو۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ دشمنوں کو گالیاں دو۔ پھر میں نے مسٹر سراج الدین سے اس کا ذکر کیا اُنہوں نے بھی اس کو اچھا نہ سمجھا۔ بعض آدمیوں کی حالت