ملفوظات (جلد 2) — Page 40
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد۔ جلد دوم ایمان کی قوت خدا کی راہ میں خفی کا برداشت کرنا مصائب اور مشکلات کے جھیلنے کے لئے ت ہمہ تن طیار ہو جانا ایمانی تحریک سے ہی ہوتا ہے۔ ایمان ایک قوت ہے جو سچی شجاعت اور ہمت انسان کو عطا کرتا ہے۔ اس کا نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے تو وہ کون سی بات تھی جو ان کو امید دلاتی تھی کہ اس طرح پر ایک بیکس ناتواں انسان کے ساتھ ہو جانے سے ہم کو کوئی ثواب ملے گا۔ ظاہری آنکھ تو اس کے سوا کچھ نہ دکھاتی تھی کہ اس ایک کے ساتھ ہونے سے ساری قوموں کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔ جس کا نتیجہ صریح یہ معلوم ہوتا تھا کہ مصائب اور مشکلات کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑے گا اور وہ چکنا چور کر ڈالے گا اسی طرح پر ہم ضائع ہو جائیں گے۔ مگر کوئی اور آنکھ بھی تھی جس نے ان مصائب اور مشکلات کو بیچ سمجھا تھا اور اس راہ میں مر جانا اس کی نگاہ میں ایک راحت اور سرور کا موجب تھا۔ اس نے وہ کچھ دیکھا تھا جو ان ظاہر بین آنکھوں کے نظارہ سے نہاں در نہاں اور بہت ہی دور تھا۔ وہ ایمانی آنکھ تھی اور ایمانی قوت تھی جو ان ساری تکلیفوں اور دکھوں کو بالکل پیچ دکھاتی تھی ۔ آخر ایمان ہی غالب آیا اور ایمان نے وہ کرشمہ دکھایا کہ جس پر ہنستے تھے اور جس کو ناتواں اور بیکس کہتے تھے اس نے اس ایمان کے ذریعہ ان کو کہاں پہنچادیا۔ وہ ثواب اور اجر جو پہلے مخفی تھا پھر ایسا آشکار ہوا کہ اس کو دنیا نے دیکھا اور محسوس کیا کہ ہاں یہ اسی کا ثمرہ ہے۔ ایمان کی بدولت وہ جماعت صحابہؓ کی نہ تھکی نہ ماندہ ہوئی بلکہ قوت ایمانی کی تحریک سے بڑے بڑے عظیم الشان کام کر دکھائے اور پھر بھی کہا تو یہی کہا کہ جو حق کرنے کا تھا نہیں کیا۔ ایمان نے ان کو وہ قوت عطا کی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سر کا دینا اور جانوں کا قربان کر دینا ایک ادنی سی بات تھی اور اور اہل اسلام میں جب کہ ابھی کوئی بین نتائج نظر نہ آتے تھے دیکھو! کس قدر مسلمانوں نے دشمنوں کے ہاتھوں سے کیسی کیسی تکلیفیں اور مصيبتين محض لا إله إلا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہنے کے بدلے برداشت کیں ۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ سر دینا کوئی بڑی بات نہ تھی اور یا ایک یہ زمانہ ہے کہ ایمانی قوت باوجود اس کے کہ مخالف اس قسم کی اذیتیں نہیں دیتے۔ ایک عادل گورنمنٹ کے سایہ میں رہتے ہیں۔ سلطنت کسی قسم کا تعرض نہیں