ملفوظات (جلد 2) — Page 443
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۳ جلد دوم بالکل بے خبری ہو جاوے جو موسیٰ علیہ السلام کی معرفت انہیں ملی ہو اور مدار نجات بھی وہی ہو یہ بالکل خلاف قیاس اور بے ہودہ بات ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ خود تراشیدہ عقیدہ ہے نبیوں کے صحیفوں میں اس کا کوئی پتہ نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہیے کیونکہ یہ حق کے خلاف ہے پس یہودیوں میں توحید پر اتفاق ہونا اور تثلیث پر کسی ایک کا بھی قائم نہ ہونا صریح دلیل اس امر کی ہے کہ یہ باطل ہے حالانکہ خود عیسائیوں کے مختلف فرقوں میں بھی تثلیث کے متعلق ہمیشہ سے اختلاف چلا آتا ہے اور یونی ٹیرین فرقہ اب تک موجود ہے۔ میں نے ایک یہودی سے دریافت کیا تھا کہ توریت میں کہیں تثلیث کا بھی ذکر ہے اور یا تمہارے تعامل میں کہیں اس کا بھی پتہ لگتا ہے اس نے صاف اقرار کیا کہ ہر گز نہیں ہماری تو حید وہی ہے جو قرآن میں ہے اور کوئی فرقہ ہمارا تثلیث کا قائل نہیں ہے۔ اس نے یہ کہا کہ اگر تثلیث پر مدار نجات ہوتا تو ہمیں جو توریت کے حکموں کو چوکھٹوں اور آستینوں پر لکھنے کا حکم تھا کہیں تثلیث کے لکھنے کا بھی ہوتا ۔ پھر دوسری دلیل اس کے ابطال پر یہ ہے کہ باطنی شریعت میں اس کے لئے کوئی نمونہ نہیں ہے باطنی شریعت بجائے خود توحید چاہتی ہے۔ پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتابوں میں اعتراف کر لیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے جزیرہ میں رہتا ہو جہاں تثلیث نہیں پہنچی اس سے توحید ہی کا مطالبہ ہوگا نہ تثلیث کا ۔ پس اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ باطنی شریعت توحید کو چاہتی ہے نہ تثلیث کو کیونکہ تثلیث اگر فطرت میں ہوتی تو سوال اس کا ہونا چاہیے تھا۔ پھر تیسری دلیل اس کے ابطال پر یہ ہے کہ جس قدر عناصر خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں وہ سب کروی پر ۔ ہیں۔ پانی کا ا قطرہ دیکھوا جرام سماوی کو دیکھوز مین کو دیکھو یہ اس لئے کرویت میں ایک وحدت ہوتی ہے پس اگر خدا میں تثلیث تھی تو چاہیے تھا کہ مثلث نما اشیاء ہوتیں ۔ ان ساری باتوں کے علاوہ بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہے جو تثلیث کا قائل ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے دلائل دے ہم جو کچھ توحید کے متعلق یہودیوں کا تعامل با وجود اختلاف فرقوں کے اور باطنی شریعت میں اس کا اثر ہونا اور قانون قدرت میں ان کی نظیر کا ملنا بتاتے ہیں ان پر غور کرنے کے بعد