ملفوظات (جلد 2) — Page 440
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۰ جلد دوم مجھے پادریوں کے سمجھانے اور اُن سے سمجھنے والوں پر سخت افسوس ہے کہ وہ اپنے گھر میں موسیٰ کی لڑائیوں پر تو غور نہیں کرتے اور اسلامی جنگوں پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں اور سمجھنے والے اپنی سادہ لوحی سے اُسے مان لیتے ہیں ۔ اگر غور کیا جاوے تو موسوی جنگوں کا اعتراض حضرت مسیح پر بھی آتا ہے کیونکہ وہ توریت کو مانتے تھے اور حضرت موسیٰ کو خدا کا نبی تسلیم کرتے تھے۔ اگر وہ ان جنگوں اور ان بچوں اور عورتوں کے قتل پر راضی نہ تھے تو اُنہوں نے اُسے کیوں مانا۔ گویا وہ لڑائیاں خود مسیح نے کیں اور ان بچوں اور عورتوں کو خود مسیح نے ہی قتل کیا۔ اور اصل یہ ہے کہ خود مسیح علیہ السلام کو لڑائیوں کا موقع ہی نہیں ملاور نہ وہ کم نہ تھے۔ انہوں نے تو اپنے شاگردوں کو حکم دیا تھا کہ کپڑے بیچ بیچ کر تلواریں خریدیں۔ یہ بالکل سچی بات ہے کہ اگر قرآن شریف ہماری رہنمائی نہ کرتا تو ان نبیوں پر سے امان اُٹھ جاتا ۔ قرآن شریف کا احسان ہے تمام نبیوں پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے کہ انہوں نے آکر ان سب کو اس الزام سے بری کر دکھایا۔ قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ اس کی یہی تعلیم ہے کہ کسی سے تعرض نہ کرو۔ جنہوں نے سبقت نہیں کی اُن سے احسان کرو اور ابتدا کرنے والوں اور ظالموں کے مقابلہ میں بھی دفاع کا لحاظ رکھو۔ حد سے نہ بڑھو۔ اسلام کی ابتدا میں ایسی مشکلات در پیش تھیں کہ ان کی نظیر نہیں ملتی ۔ ایک کے مسلمان ہونے پر مرنے مارنے کو طیار ہو جاتے تھے اور ہزاروں فتنے بپا ہوتے تھے اور اور فتنہ تو وقت قتل سے سے سے بھی بڑھ کر کر ہے۔ پس امن عامہ عامہ کے کے قیام قیام کے لیے کے لیے مقابلہ مقابلہ کرنا پڑا پڑا۔ ۔ اگر اگر ہندو اس پر اعتراض کرتے تو کچھ تعجب اور افسوس کی جان تھی مگر خود جن کے گھر میں اس سے بڑھ کر اعتراض آتا ہے اُن کو اعتراض کرتے ہوئے دیکھ کر تعجب اور افسوس ہوتا ہے۔ عیسائیوں نے اس قسم کے اعتراض کرنے میں بڑا ظلم کیا ہے ۔ کیا ان میں ایسا ہی ایمان ہے؟ پھر منجملہ اور جزئیات کے غلامی کے مسئلہ پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ قرآن شریف نے غلاموں کے آزاد کرنے کی تعلیم دی اور تاکید کی ہے اور جو اور کسی کتاب میں نہیں ہے۔ اسی قسم کی جزئیات کو یہ لوگ محل اعتراض ٹھہرا کر